اسی قدر بلکہ جو کچھ ناجائز خیالات اور اوہام اور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں ملائی گئی ہیں اور جس قدر تہذیب او ر صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عملدر آمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کرکے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ وہ اپنے ایک خط میں مجھ کولکھتے ہیں کہ ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اَور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پرکھڑے ہیں۔ مگر الہامات کے بارہ میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔ پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور اُن پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔ تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریبًا اگست میں آپ سے لودھیانہ ملنے گیا تو اُس وقت میری تسکین خوب ہوگئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کا پھر بعد کی خط وکتابت میںؔ میرے دل سے بکلّی دھویاگیا۔ اورجب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسرِ شان نہ کرے سلسلہ بیعت میں داخل ہوسکتا ہے تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔ اب میں اپنے آپ کو نسبتًا بہت اچھاپاتا ہوں۔ اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے توبہ کی ہے۔ مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک سچے مجدّد اور دنیا کے لئے رحمت ہیں۔ (۹) حبّی فی اللہ میر عباس علی لودہانوی۔ یہ میر ے وہ اوّل دوست ہیں جن کے دل میں خدائے تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جوسب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرار اخیار کی سُنت پر بقدم تجرید محض للہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے وہ یہی بزرگ ہیں۔ میں اِس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ بڑے