پٹھان تھے ۱۴۶۹ ؁ء میں عہد سلطنت بہلول لودھی میں اپنے وطن سے اس ملک میں آئے شاہِ وقت کا اُن پر اس قدراعتقاد ہو گیا کہ اپنی بیٹی کا نکاح شیخ موصوف سے کر دیا۔او رچند گاؤں جاگیر میں دے دیئے۔ چنانچہ ایک گاؤں کی جگہ میں یہ قصبہ شیخ صاحب نے آباد کیا جس کا نام مالیر ہے۔ شیخ صاحب کے پوتے بایزید خاں نامی نے مالیر کے متصل قصبہ کوٹلہ کو تقریبًا ۱۵۷۳ ؁ء میں آباد کیا۔ جس کے نام سے اب یہ ریاست مشہور ہے۔ بایزید خان کے پانچ بیٹوں میں سے ایک کا نام فیروزخان تھا اور فیروز خان کے بیٹے کانام شیرمحمد خان اور شیر محمد خان کے بیٹے کانام جمال خان تھا جمال خان کے پانچ بیٹے تھے۔ مگر ان میں سے صرف دو بیٹے تھے جن کی نسل باقی رہی یعنی بہادرخان اور عطاء اللہ خان۔ بہادرخان کی نسلؔ میں سے یہ جوان صالح خلف رشید نواب غلام محمد خان صاحب مرحوم ہے جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھاہے خدا تعالیٰ اس کو ایمانی امور میں بہادرکرے اور اپنے جد شیخ بزرگوار صدرجہان کے رنگ میں لاوے۔ سردارمحمدعلی خان صاحب نے گورنمنٹ برطانیہ کی توجہ اور مہربانی سے ایک شائستگی بخش تعلیم پائی جس کا اثر اُن کے دماغی اور دلی قویٰ پر نمایاں ہے۔ اُن کی خداداد فطرت بہت سلیم اور معتدل ہے اور باوجود عین شباب کے کسی قسم کی حدّت اور تیزی اور جذبات نفسانی اُن کے نزدیک آئی معلوم نہیں ہوتی۔ مَیں قادیان میں جب کہ وہ ملنے کے لئے آئے تھے اور کئی دن رہے پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں اُن کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نماز پڑھتے ہیں اور منکرات اور مکروہات سے بکلّی مجتنب ہیں۔ مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پرہیز گار ہو۔ معلوم ہوتا کہ انہوں نے بتوفیقہٖ تعالیٰ خود اپنی اصلاح پر آپ زور دے کر رئیسوں کے بے جا طریقوں اورؔ چلنوں سے نفرت پیدا کرلی ہے اور نہ صرف