اس عاجز کے تائید دعویٰ میں بکمال متانت و خوش اسلوبی لکھا ہے جس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ لیں گے کہ مولوی صاحب موصوف علوم دینیہ میں کس قدر محقق اور وسیع النظر او رمدقّق آدمی ہیں انہوں نے نہایت تحقیق اور خوش بیانی سے اپنے رسالہ میں کئی قسم کے معارف بھر دئے ہیں۔ ناظرین اس کو ضرور دیکھو۔
(۷) حبّی فی اللہ مولوی عبد الغنی صاحب معروف مولوی غلام نبی خوشابی دقیق فہم اور حقیقت شناس ہیں اور علوم عربیہ تازہ بتازہ ان کے سینہ میں موجود ہیں اوائل میں مولوی صاحب موصوف سخت مخالفؔ الرائے تھے۔ جب ان کو اس بات کی خبر پہنچی کہ یہ عاجز مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے اور مسیح ابن مریم کی نسبت وفات کا قائل ہے تب مولوی صاحب میں پورانے خیالات کے جذبہ سے ایک جوش پیدا ہوا اور ایک عام اشتہار دیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد اس شخص کے ردّ میں ہم وعظ کریں گے۔ شہر لودھانہ کے صدہا آدمی وعظ کے وقت موجود ہو گئے۔تب مولوی صاحب اپنے علمی زور سے بخاری اور مسلم کی حدیثیں بارش کی طرح لوگوں پر برسانے لگے اور صحاح ستّہ کا نقشہ پُرانی لکیر کے موافق آگے رکھ دیا۔اُن کے وعظ سے سخت جوش مخالفت کا تمام شہر میں پھیل گیا۔ کیونکہ ان کی علمیّت اور فضیلت دلوں میں مسلّم تھی لیکن آخر سعادت ازلی کشاں کشاں اُن کو اس عاجز کے پاس لے آئی اور مخالفانہ خیالات سے توبہ کر کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ اب اُن کے پُرانے دوست اُن سے سخت ناراض ہیں۔ مگر وہ نہایت استقامت سے اس شعر کے مضمون کا وِرد کررہے ہیں
حضرت ناصح جو آویں دیدہ ودل فرش راہ
پر کوئی مجھ کوتو سمجھاوے کہ سمجھاویں گے کیا
(۸ؔ ) حبّی فی اللہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس خاندان ریاست مالیر کوٹلہ۔ یہ نواب صاحب ایک معزز خاندان کے نامی رئیس ہیں۔ مورث اعلیٰ نوا ب صاحب موصوف کے شیخ صدرجہاں ایک باخدابزرگ تھے جو اصل باشندہ جلال آباد سروانی قوم کے