اور بھی ہمرنگی میں ترقی کریں گے اور اپنے بعض معلومات میں نظر ثانی فرمائیں گے۔ (۴) حبّی فی اللہ مولوی غلام قادر صاحب فصیح جوان صالح خوش شکل اور اس عاجز کی بیعت میں داخل ہیں۔باہمت اور ہمدرد اسلام ہیںؔ ۔ قول فصیح جو مولوی عبد الکریم صاحب کی تالیف ہے اسی مرد باہمت نے اپنے مصارف سے چھاپی اور مفت تقسیم کی۔ قوت بیانی نئی طرز کے موافق بہت عمدہ رکھتے ہیں۔ اب ایک ماہواری رسالہ ان کی طرف سے نکلنے والا ہے جس کا نام الحق ہوگا۔ یہ رسالہ محض اس غرض سے جاری کیاجائے گا کہ تا اس میں وقتًا فوقتًا ان مخالفوں کا جواب دیاجائے جو دین اسلام پر حملہ کرتے ہیں خدائے تعالیٰ اس کام میں اُن کی مدد کرے۔ (۵) سیّد حامد شاہ صاحب سیالکوٹی۔ یہ سید صاحب محب صادق اور اس عاجز کے ایک نہایت مخلص دوست کے بیٹے ہیں جس قدر خدائے تعالیٰ نے شعر اورسخن میں اُن کو قوت بیان دی ہے وہ رسالہ قول فصیح کے دیکھنے سے ظاہر ہوگی۔ میرحامد شاہ کے بشرہ سے علامات صدق واخلاص و محبت ظاہرہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اسلام کی تائید میں اپنی نظم و نثر سے عمدہ عمدہ خدمتیں بجالائیں گے۔ اُن کا جوش سے بھرا ہوا اخلاص اور ان کی محبت صافی جس حد تک مجھے معلوم ہوتی ہے۔ مَیں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔مجھے نہایت خوشی ہے کہ وہ میرے پُرانے دوست مِیر حسام الدین صاحب رئیس سیالکوٹ کےؔ خلف رشید ہیں۔ (۶) حبّی فی اللہ مولوی سیّد محمد احسن صاحب امروہی مہتمم مصارف ریاست بھوپال۔ مولوی صاحب موصوف اس عاجز سے کما ل درجہ کا اخلاص و محبت اور تعلق روحانی رکھتے ہیں۔ اُن کی تالیفات کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ لیاقت کے آدمی اور علوم عربیہ میں فاضل ہیں بالخصوص علم حدیث میں ان کی نظر بہت محیط اور عمیق معلوم ہوتی ہے۔ حال میں انہوں نے ایک رسالہ اعلام الناس