فراست نہایت صحیح ہے اور وہ بات کی تہ تک پہنچتے ہیں اور اُن کا خیال ظنونِ فاسدہ سے مصفّٰی اورمزکی ہے۔ رسالہ ازاؔ لہ اوہام کے طبع کے ایام میں دوسو3 روپیہ اُن کی طرف سے پہنچا اور اُن کے گھر کے آدمی بھی اُن کے اس اخلاص سے متأثر ہیں اوروہ بھی اپنے کئی زیورات اس راہ میں محض للہ خرچ کر چکے ہیں۔ حکیم صاحب موصوف نے باوجود اِن سب خدمات کے جو اُن کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں خاص طور پر پنج روپے ماہواری اس سلسلہ کی تائید میں دینا مقرر کیا ہے۔ جزاہم اللّٰہ خیرا الجزاء واحسن الیہم فی الدنیا والعقبٰی۔ (۳) حبّی فی اللہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی۔ مولوی صاحب اس عاجز کے یکرنگ دوست ہیں اور مجھ سے ایک سچی اور زندہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے اوقات عزیز کا اکثر حصہ انہوں نے تائید دین کے لئے وقف کررکھا ہے۔ اُن کے بیان میں ایک اثر ڈالنے والا جو ش ہے۔ اخلاص کی برکت اور نورانیت اُن کے چہرہ سے ظاہر ہے۔ میری تعلیم کی اکثر باتوں سے وہ متفق الرائے ہیں مگر میرے خیال میں ہے کہ شاید بعض سے نہیں۔ لیکن اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کے انوار صحبت نے بہت سا نورانی اثر اُن کے دلؔ پر ڈالا ہے اور نیچریت کی اکثر خشک باتوں سے وہ بیزار ہوتے جاتے ہیں۔ اور درحقیقت میں بھی اِس بات کوپسند نہیں کرتا کہ الٰہی کتاب کے واقعی اور سچے منشاء کے مخالف نیچر کے ایسے تابع ہوجائیں کہ گویا کامل ہادی ہمارا وہی ہے۔ میں ایسے حصّہ نیچریت کو قبول کرتا ہوں جس کو میں دیکھتا ہوں کہ میرے مولیٰ اور ہادی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اس کو قبول کر لیا ہے اور سُنّت اللہ کے نام سے اس کو یاد کیا ہے۔ مَیں اپنے خداوند کو کامل طورپر قادر مطلق سمجھتا ہوں اور اسی بات پر ایمان لاچکا ہوں کہ وہ جو چاہتا ہے کر دکھاتا ہے اور اسی ایمان کی برکت سے میری معرفت زیادت میں ہے اورمحبت ترقی میں۔ مجھے بچوں کا ایمان پسندآتا ہے اور فلسفیوں کے بودے ایمان سے میں متنفّرہوں مجھے یقین ہے کہ مولوی صاحب اپنی محبت کے پاک جذبات کی وجہ سے