پرندہ زندہ کر دیاجائے حالانکہ وہ خوب جانتے ہوں گے کہ ہمارے اصولوں سے یہ مخالف ہے۔ ہمار ا یہی اصول ہے کہ مُردوں کو زندہ کرنا خدائے تعالیٰ کی عادت نہیں اور وہ آپ فرماتا ہے 333 ۱۔ یعنی ہم نے یہ واجب کر دیاہے کہ جو مر گئے پھر وہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہا تھا کہ آسمانی نشان کی اپنی طرف سے کوئی تعیین ضروری نہیں بلکہ جو امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ثابت ہو خواہ وہ کوئی امر ہو اسی کو آسمانی نشان سمجھ لینا چاہیئے اور اگر اس میں شک ہو تو بالمقابل ایسا ہی کوئی دوسرا امر دکھلا کر یہ ثبوت دینا چاہیئے کہ وہ امر الٰہی قدرتوں سے مخصوص نہیں لیکن ڈاکٹر صاحب اس سے کنارہ کر گئے اور مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جومولوی صاحب کی عظمتِ ایمان پر ایک محکم دلیل ہے۔ دل میں از بس آرزو ہے کہ اَور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں۔ مولوی صاحب پہلے راستباؔ زوں کا ایک نمونہ ہیں۔ جزاہم اللّٰہ خیرا الجزاء و احسن الیہم فی الدنیا والعقبٰی۔
(۲) حبّی فی اللہ حکیم فضل دین صاحب بھیروی۔ حکیم صاحب اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کے دوستوں میں سے اور ان کے رنگ اخلاق سے رنگین اور بہت بااخلاص آدمی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اُن کو اللہ اور رسول سے سچی محبت ہے اور اسی وجہ سے وہ اس عاجز کو خادم دین دیکھ کر حبّ لِلّٰہ کی شرط کو بجا لارہے ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ انہیں دین اسلام کی حقانیت کے پھیلانے میں اُسی عشق کاوافر حصہ ملا ہے جو تقسیم ازلی سے میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور دین صاحب کو دیا گیا ہے۔ وہ اِس سلسلہ کے دینی اخراجات کو بنظر غور دیکھ کر ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ چندہ کی صورت پر کوئی اُن کا احسن انتظام ہوجائے۔ چنانچہ رسالہ فتح اسلام میں جِس میں مصارف دینیہ کی پنج شاخوں کا بیان ہے اُنہیں کی تحریک اور مشورہ سے لکھاگیا تھا۔ انکی