انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردّد مجھے قبول کیاکہ جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے سُست اور متذبذب ہوگئے تھے۔ تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے۔ اٰمنّا وصدقنا فا کتبنا مع الشَّاھدین مولوی صاحب موصوف کے اعتقاد اور اعلیٰ درجہ کی ؔ قوتِ ایمانی کا ایک یہ بھی نمونہ ہے کہ ریاست جموں کے ایک جلسہ میں مولوی صاحب کاایک ڈاکٹر صاحب سے جن کانام جگن ناتھ ہے اس عاجز کی نسبت کچھ تذکرہ ہوکر مولوی صاحب نے بڑی قوت اور استقامت سے یہ دعویٰ پیش کیا کہ خدائے تعالیٰ اُن کے یعنی اس عاجز کے ہاتھ پر کوئی آسمانی نشان دکھلانے پر قادر ہے۔ پھر ڈاکٹر صاحب کے انکار پر مولوی صاحب نے ریاست کے بڑے بڑے ارکان کی مجلس میں یہ شرط قبول کی کہ اگر وہ یعنی یہ عاجز کسی مدّت مسلّمہ فریقین پر کوئی آسمانی نشان دکھلا نہ سکے تو مولوی صاحب ڈاکٹر صاحب کو پنج ہزار روپیہ بطور جرمانہ دیں گے اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ شرط ہوئی کہ اگرانہوں نے کوئی نشان دیکھ لیا تو بلا توقف مسلمان ہوجائیں گے اور اِن تحریری اقراروں پر مندرجہ ذیل گواہیاں ثبت ہوئیں۔
خان بہادر جنرل ممبر کونسل ریاست جموں غلام محی الدین خا ں
سراج الدین سپرنٹنڈنٹ و افسر ڈاکخانجات ریاست جموں
سرکار سنگھ سیکرٹری راجہ امر سنگھ صاحب بہادر پریذیڈنٹ کونسل
مگرؔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحب ناقابل قبول اعجازی صورتوں کو پیش کر کے ایک حکمت عملی سے گریز کر گئے۔ چنانچہ انہوں نے ایک آسمانی نشان یہ مانگاکہ کوئی مرا ہوا