اور نفسانی قلق کو دبانے والا ایک صبر بھی عطا ہوتا ہے اور میں جو کہتاہوں کہ اِن الٰہی کاموں میں قوم کے ہمدرد مدد کریں وہ بے صبری سے نہیں بلکہ صرف ظاہرکے لحاظ اور اسباب کی رعایت سے کہتا ہوں۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر میرا دل مطمئن ہے اورؔ امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا اور میرے تمام ارادے اور امیدیں پوری کردے گا۔اب میں اُن مخلصوں کا نام لکھتا ہوں جنھوں نے حتی الوسع میرے دینی کاموں میں مدد دی یاجن پر مدد کی امید ہے یا جن کو اسباب میسر آنے پر طیار دیکھتا ہوں۔ (۱) حبّی فی اللہ مولوی حکیم نور دین صاحب بھیروی۔ مولوی صاحب ممدوح کا حال کسی قدررسالہ فتح اسلام میں لکھ آیاہوں۔لیکن ان کی تازہ ہمدردیوں نے پھر مجھے اس وقت ذکرکرنے کا موقعہ دیا۔ اُن کے مال سے جس قدرمجھے مدد پہنچی ہے میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔ میں نے انکو طبعی طور پر اورنہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جان نثار پایا۔ اگرچہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر یک پہلو سے اسلام اورمسلمانوں کے سچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اوّل درجہ کے نکلے۔مولوی صاحب موصوف اگرچہ اپنی فیاضی کی وجہ سے اس مصرعہ کے مصداق ہیں کہ قرار در کفِ آزاؔ دگاں نگیرد مال لیکن پھر بھی انہوں نے بارہ سو روپیہ نقد متفرق حاجتوں کے وقت اس سلسلہ کی تائید میں دیا۔ اوراب 3بیس روپے ماہواری دینااپنے نفس پر واجب کر دیا اور اس کے سوا اور بھی ان کی مالی خدمات ہیں جو طرح طرح کے رنگوں میں ان کا سلسلہ جاری ہے میں یقینًا دیکھتاہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدانہ ہو جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ اُن کو خدائے تعالیٰ نے اپنے قوی ہاتھ سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور طاقتِ بالا نے خارق عادت اثر اُن پر کیا ہے۔