وہ رسالہ مفت بھی تقسیم کر دیا تا لوگ اس کو پڑھیں اور اپنے پیارے دین کی امدادکے لئےؔ اپنے گذشتنی گذاشتنی مالوں میں سے کچھ حق مقررکریں مگر افسوس کہ بجُز چند میرے مخلصوں کے جن کا ذکر میں عنقریب کروں گا کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ میں حیران ہوں کہ کن الفاظ کو استعمال کروں تا میری قوم پر وہ مؤثر ہوں۔ میں سوچ میں ہوں کہ وہ کون سی تقریر ہے جس سے وہ میرے غم سے بھرے ہوئے دل کی کیفیت سمجھ سکیں۔ اے قادر خدا اُن کے دلوں میںآپ الہام کر اور غفلت اور بد ظنّی کی رنگ آمیزی سے ان کو باہر نکال اور حق کی روشنی دکھلا۔ پیارو یقینًا سمجھو کہ خداہے اور وہ اپنے دین کو فراموش نہیں کرتا بلکہ تاریکی کے زمانہ میں اس کی مدد فرماتا ہے مصلحت عام کے لئے ایک کو خاص کرلیتا ہے اوراُس پر علوم لدنیہ کے انوار نازل کرتا ہے۔ سو اُسی نے مجھے جگایا اور سچائی کے لئے میرا دل کھول دیا۔ میری روزانہ زندگی کا آرام اسی میں ہے کہ میں اسی کام میں لگا رہوں۔بلکہ میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا کہ میں اس کا اور اس کے رسول کا اور اس کی کلام کا جلال ظاہر کروں۔ مجھے کسیؔ کی تکفیر کا اندیشہ نہیں اور نہ کچھ پروا۔ میرے لئے یہ بس ہے کہ وہ راضی ہو جس نے مجھے بھیجا ہے۔ ہاں مَیں اس میں لذّت دیکھتا ہوں کہ جو کچھ اُس نے مجھ پر ظاہر کیا وہ میں سب لوگوں پر ظاہرکروں اور یہ میرا فرض بھی ہے کہ جو کچھ مجھے دیاگیا وہ دوسروں کو بھی دُوں۔ اوردعوت مولیٰ میں ان سب کو شریک کرلوں جو ازل سے بلائے گئے ہیں۔ میں اس مطلب کے پورا کرنے کے لئے قریبًا سب کچھ کرنے کے لئے مستعد ہوں اور جانفشانی کے لئے راہ پر کھڑا ہوں۔ لیکن جو امر میرے اختیار میں نہیں میں خداوند قدیر سے چاہتا ہوں کہ وہ آپ اس کو انجام دیوے۔ میں مشاہدہ کررہا ہوں کہ ایک دست غیبی مجھے مدد دے رہا ہے۔ اور اگرچہ میں تمام فانی انسانوں کی طرح ناتواں اور ضعیف البنیان ہوں تاہم میں دیکھتاہوں کہ مجھے غیب سے قوت ملتی ہے