پیدا ہوا ہے جاتا رہے اور ایک بھاری شکست اور ناحق کی سُبکی اور ناکامی کے ساتھ واپس ہوں۔ سومیری صلاح یہ ہے کہ بجائے ان واعظوں کے عمدہ عمدہ تالیفیں اِن ملکوں میں بھیجی جائیں۔ اگر قوم بدل وجان میری مدد میں مصروف ہو تو میں چاہتا ہوں کہ ایک تفسیر بھی تیارکر کے اور انگریزی میں ترجمہ کرا کر اُن کے پاس بھیجی جائے۔ میں اس بات کو صاف صاف بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ یہ میرا کام ہے دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہوگا جیسا مجھ سے یا جیسا اس سے جو میری شاخ ہے اور مجھ میں ہی داخل ہے۔ ہاں اس قدر میں پسند کرتا ہوں کہ ان کتابوں کے تقسیم کرنے کے لئے یا اُن لوگوں کے خیالات اور اعتراضات کوہم تک پہنچانے کی غرض سے چند آدمی ان ملکوں میں بھیجے جائیں جو امامت اور مولویت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ ظاہر کردیں کہ ہم صرف اس لئے بھیجے گئے ہیں کہ تا کتابوں کو تقسیم کریں اور اپنی معلومات کیؔ حد تک سمجھاویں اور مشکلات اور مباحث دقیقہ کاحل ان اماموں سے چاہیں جو اس کام کے لئے ملک ہند میں موجود ہیں۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام میں اس قدرصداقت کی روشنی چمک رہی ہے اور اس قدر اس کی سچائی پر نورانی دلائل موجود ہیں کہ اگر وہ اہل تحقیق کے زیر توجہ لائی جاویں تو یقینًا وہ ہر یک سلیم العقل کے دل میں گھرکر جاویں۔ لیکن افسوس کہ ابھی وہ دلائل اندرونی طورپر بھی اپنی قوم میں شائع نہیں چہ جائیکہ مخالفوں کے مختلف فرقوں میں شائع ہوں۔ سو انہیں براہین اور دلائل اور حقائق اور معارف کے شائع کرنے کے لئے قوم کی مالی امداد کی حاجت ہے کیاقوم میں کوئی ہے جو اس بات کو سُنے ؟
جب سے میں نے رسالہ فتح اسلام کو تالیف کیا ہے ہمیشہ میرا اسی طرف خیال لگا رہا کہ میری اس تجویز کے موافق جو میں نے دینی چندہ کے لئے رسالہ مذکورہ میں لکھی ہے دلوں میں حرکت پیدا ہوگی۔ اسی خیال سے میں نے چار سو کے قریب