یقینًا جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ اسلام اپنا اصلی رنگ نکال لائے گا اور اپنا وہ کمال ظاہر کرے گا جس کی طرف آیت 3 ۱ میںؔ ؔ اشارہ ہے۔ سنّت اللہ اسی طرح واقع ہے کہ خزائن معارف و دقائق اُسی قدر ظاہر کئے جاتے ہیں جس قدراُن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سو یہ زمانہ ایک ایسازمانہ ہے جو اس نے ہزارہا عقلی مفاسد کو ترقی دے کر اور بے شمار معقولی شبہات کو بمنصۂ ظہور لا کر بالطبع اس بات کا تقاضا کیا ہے کہ ان اوہام و اعتراضات کے رفع ودفع کے لئے فرقانی حقائق و معارف کا خزانہ کھولا جائے۔ بے شک یہ بات یقینی طورپر ماننی پڑے گی کہ جس قدر حق کے مقابل پر اب معقول پسندوں کے دلوں میں اوہام باطلہ پیدا ہوئے ہیں اور عقلی اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہوا ہے اس کی نظیر کسی زمانہ میں پہلے زمانوں میں سے نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا ابتداء سے اس امرکو بھی کہ ان اعتراضات کا براہین شافیہ وکافیہ سے بحوالہ آیات فرقان مجید بکلی استیصال کر کے تمام ادیان باطلہ پر فوقیت اسلام ظاہر کر دی جائے اِسی زمانہ پر چھوڑ ا گیا تھا کیونکہ پیش از ظہور مفاسد ا ن مفاسد کی اصلاح کاتذکرہ محض بے محل تھا۔ اِسی وجہ سے حکیم مطلق نے ان حقائق اور معارف کو اپنی کلام پاک میں مخفی رکھا اور کسی پر ظاہر نہ کیا جب تک کہ اُن کے اظہارکاؔ ؔ وقت آگیا۔ ہاں اس وقت کی اس نے پہلے سے اپنی کتاب عزیز میں خبر دے رکھی تھی جو آیت 3۲ میں صاف اور کھلے کھلے طور پر مرقوم ہے۔ سو اب وہی وقت ہے اور ہر یک شخص روحانی روشنی کا محتاج ہو رہا ہے سو خدائے تعالیٰ نے اس روشنی کو دے کر ایک شخص دنیا میں بھیجا وہ کون ہے ؟ یہی ہے جو بول رہا ہے۔ رسالہ فتح اسلام میں یہ امر مفصّل طورپر بیان کیا گیا ہے کہ ایسے عظیم الشان کاموں کے لئے قوم کے
ذی مقدرت لوگوں کی امداد ضروری ہوتی ہے اور اس سے زیادہ اور کون سی سخت معصیت ہوگی کہ ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں