اور وہ وبا پھیل رہی ہے جو کسی آنکھ نے پہلے اس سے نہیں دیکھی تھی۔ اس نازک وقت میں ایک شخص خدائے تعالیٰ کی طرف سے اُٹھا اور چاہتا ہے کہ اسلام کاخوبصورت چہرہ تمام دنیا پر ظاہر کرے اور اس کی راہیں مغربی ملکوں کی طرف کھولے لیکن قوم اس کی امداد سے دستکش ہے اور سوء ظن اور دنیا پرستی کی راہ سے بکلّی قطع تعلقات کر کے چپ چاپ بیٹھی ہے۔ افسوس کہ ہماری قوم میںؔ سے بہتوں نے سوء ظن کی راہ سے ہر یک شخص کو ایک ہی مد مکر اور فریب میں داخل کردیا ہے اور کوئی ایسا شخص جوروحانی سرگرمی اور دیانتداری کا اثر اپنے اندررکھتا ہو شاید اُن کے نزدیک ممتنع الوجود ہے۔ بہت سے ان میں ایسے ہیں کہ وہ صرف دنیوی زندگی کی فکروں میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی نگاہ میں وہ لوگ سخت بے وقوف ہیں جو کبھی آخرت کابھی نام لیتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ دین سے بھی کچھ دلچسپی رکھتے ہیں۔ مگر صرف بیرونی صورت اور مذہب کی بے اصل باتوں میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ نبیوں کی تعلیم کا اعلیٰ مقصد کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیئے جس سے ہم اپنے مولیٰ کی دائمی رضا مندی میں داخل ہوجائیں۔ میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذرّیت کو نہایت ضرورت ہے۔ سو میں اس لئے مستعد کھڑاہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیّبہؔ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدّم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے اُ ن علوم او ر برکات کو ایشیااور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ امریکہ اور یوروپ میں