ہے تعجب آپ کے اس جوش پر
فہم پر اور عقل پر اور ہوش پر
کیوؔ ں نظر آتا نہیں راہِ صواب
پڑ گئے کیسے یہ آنکھوں پرحجاب
کیایہی تعلیمِ فرقاں ہے بھلا
کچھ تو آخر چاہیئے خوفِ خدا
مومنوں پر کفر کا کرنا گماں
ہے یہ کیا ایمانداروں کا نشاں
ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں
دل سے ہیں خدّام ختم المرسلیں
شرک اور بدعت سے ہم بیزارہیں
خاکِ راہِ احمد مختار ہیں
سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے
جان و دل اس راہ پر قربا ن ہے
دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا
ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا
تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب
کیوں نہیں لوگو تمہیں خوف عقاب
سخت شورے اوفتاد اندر زمیں
رحم کن برخلق اے جاں آفریں
کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا
تجھ کو سب قدرت ہے ،اے ربّ الورا
آمین
بعضؔ مبائعین کا ذکر اور نیز اس سلسلہ کے معاونین کاتذکرہ اور اِس58لام کو یُورپ اور امریکہ میں پھیلانے کی احسن تجویز
میں رسالہ فتح اسلام میں کسی قدرلکھ آیا ہوں کہ اسلا م کے ضعف اور غربت اور تنہائی کے وقت میں خدائے تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تا میں ایسے وقت میں جو اکثر لوگ عقل کی بد استعمالی سے ضلالت کی راہیں پھیلا رہے ہیں او رروحانی امور سے رشتہ مناسبت بالکل کھو بیٹھے ہیں اسلامی تعلیم کی روشنی ظاہر کروں۔ مَیں