ایک ہوگیا۔ اگر اس کو فوت شد ہ نہ کہیں تو اَور کیا کہیں۔
اورؔ ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم مسیح ابن مریم کواپنی آیات کے تیس مقامات میں مار چکاہے اور کیا عبارت النص کے طور پر اور کیا اشارۃ النص کے طور پر۔ کیا فحوائے نص کے طور پر ان کی موت پر شہادت دے رہا ہے۔اور ایک بھی ایسی آیت نہیں پائی جاتی جو اُن کے زندہ ہونے اور زندہ اُٹھائے جانے پر ایک ذرّہ بھی اشارہ کرتی ہو۔ ہاں بعض بے اصل اور بیہُودہ اقوال تفسیروں میں پائے جاتے ہیں جن کی تائید میں نہ کوئی آیت قرآن کریم کی پیش کی گئی ہے اورنہ کوئی حدیث معرض بیان میں لائی گئی ہے اور بااینہمہ ان اقوال کی بنا یقین پرنہیں کیوں کہ انہیں تفسیروں میں بعض اقوال کے مخالف بعض دوسرے اقوال بھی لکھے ہیں۔ مثلًا اگر کسی کا یہ مذہب لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہی اٹھایا گیا تو ساتھ ہی اس کے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ بعض کا یہ بھی مذہب ہے کہ مسیح فوت ہوگیا ہے۔ بلکہ ثقات صحابہ کی روایت سے فوت ہوجانے کے قول کو ترجیح دی ہے۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب بیان کیا گیا ہے۔
رہی حدیثیں سو اُن میں کسی جگہ بیان نہیں کیا گیا کہ مسیح ابنؔ مریم جو رسول اللہ تھا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جو فوت ہو چکا ہے درحقیقت وہی عالم آخرت کے لوگوں میں سے نکل کر پھر اس دنیا کے لوگوں میں آجائے گا بلکہ حدیثوں میں ایک ایسی طرز اختیار کی گئی ہے جس سے ایک دانا انسان صریح سمجھ سکتا ہے کہ مسیح ابن مریم سے مراد مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ اس کی صفات خاصہ میں کوئی اس کا مثیل مراد ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں دو پہلو قائم کر کے ایک پہلو میں یہ ظاہرکرنا چاہا ہے کہ اسلام تنزّل کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جائے گا کہ اس وقت کے مسلمان اُن یہودیوں کے مشابہ بلکہ بعینہٖ وہی ہوجائیں گے جو حضرت مسیح ابن مریم کے وقت میں موجود تھے