موجود ہے پھر مسیح کے جسم میں کونسی انوکھی بات ہے تا کوئی منصف یقین کرلیوے کہ مسیح تو جسم خاکی عنصری رکھتا ہے مگر ابراہیم کا نورانی جسم ہے۔ ہاں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ مسیح کے جسم میں خاکی جسم کے لوازم موجود ہیں۔ جیسے روٹی کھانا۔ پانی پینا۔ پیشاب کرنا پاخانہ پھرنا وغیرہ وغیرہ اور ابراہیم کے جسم میں یہ لوازم موجود نہیں تو بھلاپھرکون ہے کہ اس ثبوت کے بعد پھر برسر انکار رہے۔ لیکن اب تک یہ ثبوت نہ عیسائی لوگ پیش کر سکے اور نہ مسلمانوں میں سے کسی نے پیش کیا بلکہ دونوں فریق کو صاف اقرار ہے کہ مسیح کی زندگی دوسرے نبیوں کی زندگی سے صاف متحد الحقیقت اور ہمرنگ اور ایک ذرہ مابہ الامتیاز درمیان نہیں۔ پھر بھلا ہم کیوں کر مان لیں کہ مسیح کسی نرالے جسم کے ساتھ آسمان پر بیٹھاہے اور دوسرے سب بغیر جسم کے ہیں۔ ہم کو محض جبر اورتحکم کی راہ سے یہ سنایاجاتاہے کہ اسی بات پرتماؔ م اُمت کا اجماع ہے۔لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سلف اور خلف کا تو کسی ایک بات پر اتفاق ہی نہیں تو ہم کیوں کر قبول کر لیں کہ ہاں اجماع ہی ہے۔ بھلا اگر مسیح کی زندگی پر کسی کا اجماع ہے تو ایک قول تو دکھلاؤ جس میں سلف کے لوگوں نے مسیح کی زندگی ایک دنیوی زندگی قرار دی ہو اور دنیوی زندگی کے لوازم اُس میں قبول کر لئے ہو ں او ردوسروں کو اس سے باہر رکھا ہو۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس بات پر تمام خلف و سلف کا اجماع معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ا س عالم کو چھوڑکر دوسرے عالم کے لوگوں میں جا ملا ہے اور بلا کم وبیش انہیں کی زندگی کے موافق اس کی زندگی ہے گو بعض نے نادانی سے مسیح کی موت سے انکار کیا ہے مگر باوجود اس کے قبول کر لیا ہے کہ وہ مرنے والے لوگوں کی طرح اس عالم کو چھوڑ گیا ہے اوراس جماعت میں جا ملا جو مر گئے ہیں اور بکلّی اُن کے رنگ میں ہوگیا۔ بھلا کوئی دانشمند اُن سے پوچھے کہ اگر یہ موت نہیں تو اَور کیا ہے جس نے دُنیا کے عالم کو چھوڑ دیا اور دوسرے عالم میں جا پہنچا اور دنیا کے لوگوں کو چھوڑ دیا اور دوسرے جہان کے لوگوں میں سے