پھر دوسرے پہلو میں یہ ظاہر کیا ہے کہ اس تنزّل کے زمانہ میں کہ جب مسلما ن لوگ ایسے یہودی بن جائیں گے کہ جو عیسیٰ بن مریم کے وقت میں تھے تو اُس وقت اُن کی اصلاح کے لئے ایک مسیح ابن مریم بھیجا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ اگراس پیشگوئی کے وہ دونوں ٹکڑے اکٹھے کر کے پڑھے جائیں جو ایک طرف اس اُمّت میں یہودیت کوقائم کرتے ہیں اور دوسری طرف مسیحیت کو۔ تو پھر اس بات کے سمجھنے کے لئےؔ کوئی اشتباہ باقی نہیں رہتا کہ یہ دونوں صفتیں اسی اُمّت کے افراد کی طرف منسوب ہیں اور ان حدیثوں کی قرآن کریم کے منشاء سے اسی صورت میں تطبیق ہوگی کہ جب یہ دونوں صفتیں اسی اُمّت کے متعلق کی جائیں کیونکہ جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں قرآن شریف وعدہ فرما چکا ہے کہ خلافت محمد یّہ کا سلسلہ باعتبار اوّل اور آخر کے بعینہٖ خلافت موسویہ کے سلسلہ سے مماثل ومشابہ ہے یعنی اس اُمت کے اعلیٰ اورادنیٰ افراد کا بنی اسرائیل کی اُمّت سے تشابہ قلوب ہے اعلیٰ کی اعلیٰ سے اور ادنی کی ادنیٰ سے۔اور یہ دونوں سلسلے اپنی ترقی اور تنزّل کی حالت میں بالکل باہم مماثل اورمشابہ ہیں اور جیسا کہ موسوی شریعت چودہ سو برس کے قریب عمر پا کر اس مدت کے آخری ایام میں اوج اقبال سے گر گئی تھی اور ہریک بات میں تنزّل راہ پاگیا تھاکیا دنیوی حکومت و سلطنت میں اور کیا دینی تقویٰ اور طہارت میںیہی تنزّل اسی مدّت کے موافق اسلامی شریعت میں بھی راہ پاگیا۔ اور موسوی شریعت میں تنزّل کے ایا م کا مصلح جو منجانب اللہ آیا وہ مسیح ابن مریم تھا۔ پس ضرور تھا کہ دونو سلسلہ میںؔ پور ی مماثلت دکھلانے کی غرض سے اسلامی تنزّل کے زمانہ میں بھی کوئی مصلح مسیح ابن مریم کے رنگ پر آتا اور اسی زمانہ کے قریب قریب آتا جو موسوی شریعت کے تنزّل کا زمانہ تھا۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو قرآن شریف سے مترشح ہوتی ہیں۔ جب ہم قرآن شریف پر غورکریں تو گویا وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ یہی سچ ہے تم اس کو قبول کرو۔ لیکن افسوس کہ ہمارے علماء سچائی کو دیکھ کر پھر اُس کو