آیت مذکورہ بالا میں ذکر ہے اسی قسم میں سے ہے اور بعد میں جو آیت ہے 33 ٰ۱ یہ حیات حقیقی کا ثبوت نہیں بلکہ ایک اعجوبہ قدرت کے ثابت ہونے سے دوسری قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ جابجا قرآن شریف میں یہی طریق ہے یہاں تک کہ نباتات کے اُگنے کو احیاء موتٰی پردلیل ٹھہرائی گئی ہے اور یہی آیت 33 ان مقامات میں بھی لکھی گئی ہے۔ اوریاد رکھنا چاہیئے کہ جو قرآن کریم میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزاء متفرقہ یعنی جدا جدا کرؔ کے چار پہاڑیوں پر چھوڑا گیا تھا اورپھر وہ بلانے سے آگئے تھے یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عمل الترب کے تجارب بتلا رہے ہیں کہ انسان میں جمیع کائنات الارض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایک قوت مقناطیسی ہے اور ممکن ہے کہ انسان کی قوتِ مقناطیسی اس حد تک ترقی کرے کہ کسی پرند یا چرند کو صرف توجہ سے اپنی طرف کھینچ لے۔ فتدبّر و لا تغفل۔
اب پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ تمام مقدّس لوگ جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ دوسرے جہان میں زندہ ہیں۔ چنانچہ جب مسیح سے قیامت کے منکروں نے سوال کیا کہ مُردوں کے جی اُٹھنے پر کیا دلیل ہے تو مسیح نے یہی جواب دیا کہ خدائے تعالیٰ توریت میں فرماتا ہے کہ ابراہیم کا خدا اسحٰق کا خدا یعقوب کا خدا۔ سو خدا زندوں کا خدا ہوتاہے نہ مُردوں کا۔ اس سے مسیح نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب سب زندہ ہیں۔ اور لعاذر کے قصہ میں بھی مسیح نے ابراہیم کا زندہ ہونا مان لیا ہے اور اب تک عیسائی لوگ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ مسیح کی زندگی کو ابراہیم کی زندگی پر کیا ترجیح ہے اور مسیح کی زندگی میں وہ ؔ کون سے خاص لوازم ہیں جو ابراہیم کی زندگی میں نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر ابراہیم کو ایک جسم نہ ملتا تو لعاذر اُس کی گود میں کیوں کر بیٹھتا۔ مسیح نے انجیل میں خو د اقرار کرلیا کہ ابراہیم جسم کے سمیت عالم ثانی میں