دنیا میں بھیجا گیا ہے اور دوسری چیزیں قوت منفعلہ رکھتی ہیں۔ ادنیٰ اثر انسان کی قوتِ فاعلہ کا یہ ہے کہ ہریک جاندار اس سے ایسا ہِل سکتا ہے کہ اس کے خادموں میں اپنے تئیں شمار کرلیتا ہے اورؔ اس کا مسخر ہو جاتا ہے۔فطرت نے جن انسانوں کو قوت فاعلہ کا بہت ساحصہ دیا ہے اُن سے عمل الترب کے عجیب عجیب خواص ظاہر ہوتے ہیں۔ درحقیقت انسان ایک ایساجانور ہے کہ اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ ترقی دینے سے ترقی پذیر ہو سکتے ہیں اور ان کی قوت فاعلی کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ مثلًا جن لوگوں کو ہمارے ملک میں ڈائن کہتے ہیں ان کی صرف اس قدر حقیقت ہے کہ ان کی زہریلی نظر سے ضعیف الخلقت لوگ بچے وغیرہ کسی قدر متاثر ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی زہریلی نظر سے درندوں کو مغلوب اور متاثر کر کے آسانی سے اُن کا شکار کرلیتے ہیں۔ بعض اپنے تصّورات تربی مشق کی وجہ سے دوسرے کے دل میں ڈال دیتے ہیں۔ بعض اپنی کیفیت ذوقی کا اثر اسی عمل کے زور سے دوسرے کے دل تک پہنچا سکتے ہیں۔ بعض بے جان چیزوں پر اثرڈال کر ان میں حرکت پیدا کر دیتے ہیں۔ چنانچہ زمانہ حال میں بھی ان باتوں میں مشق رکھنے والے بہت نظر آتے ہیں۔ بعض کٹے ہوئے سر بکر ی وغیرہ کے عمل الترب کے زور سے ایسی حرکت میں لاتے ہیں کہ وہ ناچتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض عمل الترب کے زور سے چوروں کا پتہ لگا لیتے ہیں۔قرآن شریفؔ یالوٹے کو حرکت دے کر جو چور کا پتہ نکالتے ہیں حقیقت میں یہ عمل الترب کی ایک شاخ ہے۔ اگرچہ اس کی شرائط ضروریہ کے نہ پائے جانے کی وجہ سے غلطی واقع ہو۔ چنانچہ اسی وجہ سے بکثرت غلطی واقع ہوتی بھی ہے لیکن یہ غلطی اس عمل کی عزت اور عظمت کو گھٹا نہیں سکتی کیونکہ بہت سے تجارب صحیحہ سے اس کی اصلیت ثابت ہوچکی ہے۔ بے شک انسانی حیات اور شعور کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑ سکتا ہے اورانسا ن کی قوت کشفی کا پرتوہ جمادات یا کسی مردہ حیوان پر پڑ کر اس کو بعض مجہولات کے استکشاف کا آلہ بنا سکتاہے۔ چنانچہ قضیہ مذکورہ بالا جس کا