اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے قصّوں میں قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ ہوگیا تھا اور واقعی طورپر کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی۔ بلکہ اس آیت پر نظر غور کرنے سے صرف اس قدر ثابت ہوتاہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے ایک خون کر کے چھپا دیا تھا اور بعض بعض پر خون کی تہمت لگاتے تھے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اصل مجرم کے پکڑنے کے لئے یہ تدبیر سمجھائی تھی کہ تم ایک گائے کو ذبح کرکے اس کی بوٹیاں اس لاش پر مارو۔ اور وہ تمام اشخاص جن پر شبہ ہے ان بوٹیوں کونوبت بہ نوبت اس لاش پر ماریں۔ تب اصل خونی کے ہاتھ سے جب لاش پر بوٹی لگے گی تو لاش سے ایسی حرکات صادرہوں گی جس سے خونی پکڑا جائے گا۔ اب اس قصّہ سے واقعی طور پر لاش کا زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک دھمکی تھی کہ تا چور بیدل ہوکر اپنے تئیں ظاہر کرے۔ لیکن ایسی تاویل سے عالم الغیب کا عجز ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تاویلیں وہی لوگ کرتے ہیں کہ جن کو عالم ملکوت کے اسرارسےؔ حصّہ نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق علم عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھاجس کے بعض خواص میں سے یہ بھی ہے کہ جمادات یا مردہ حیوانات میں ایک حرکت مشابہ بحرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول امور کا پتہ لگ سکتاہے۔ ہمیں چاہئیے کہ کسی سچائی کو ضائع نہ کریں اور ہریک وہ حقیقت یا خاصیت جو عین صداقت ہے اس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے سمجھیں۔ علم عمل الترب ایک عظیم الشان علم ہے جو طبیعی کا ایک روحانی حصہ ہے جس میں بڑے بڑے خواص اور عجائبات پائے جاتے ہیں۔ اور اس کی اصلیت یہ ہے کہ انسان جس طرح باعتبار اپنے مجموعی وجود کے تمام چیزوں پر خلیفۃ اللہ ہے اور سب چیزیں اس کے تابع کردی گئی ہیں اسی طرح انسان جس قدر اپنے اندر انسانی قویٰ رکھتا ہے تمام چیزیں ان قویٰ کی اس طرح پر تابع ہیں کہ شرائط مناسبہ کے ساتھ ان کا اثر قبول کرلیتی ہیں۔ انسان قوت فاعلہ کے ساتھ