کہ اُن کومسیح کے فوت ہونیکے بعد زندہ اُٹھائے جانے پر بڑا اصرار ہے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ آسمانوں میں دنیوی زندگی سے عمر بسر کرتے ہیں بلکہ محض موسیٰ اور داؤد اور دوسرے نبیوں کی زندگی کی مانند مسیح کی زندگی خیال کرتے ہیں کیونکہ مسیح کو خود اس بات کا اقرار ہے۔
اس جگہ یہ بھی ظاہر رہے کہ توفی کے معنے وفات دینے کے صرف اجتہادی طورپر ہم نے معلوم نہیں کئے بلکہ مشکٰوۃ کے باب الحشر میں بخاری اور مسلم کی حدیث جو ابن عباس سے ہے صریح اور صاف طور پر اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کی یہی تفسیر فرماتے ہیں کہ درحقیقت اس سے وفات ہی مراد ہے۔ بلکہ اسی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں اُن کی وفاؔ ت کے بعد کیاگیا تھا نہ یہ کہ قیامت میں کیاجائے گا۔ پس جس آیت کی تفسیر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی کھول دیا پھر اگر کوئی تفسیر نبوی کو بھی سُن کر شک میں رہے تو اس کے ایمان اور اسلام پر اگر افسوس اور تعجب نہ کریں تو اَور کیاکریں۔ دیکھو اس حدیث کو امام بخاری انہیں معنوں کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے اپنی صحیح کی کتاب التفسیر میں لایا ہے۔ دیکھو صفحہ ۶۶۵ بخاری۔
بعض صاحب اِن سب دلائل شافیہ کو سُن کر حضرت مسیح کی وفات کے قائل تو ہوجاتے ہیں مگر پھر وہ دوبارہ یہ وہم پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو زندہ کر کے پھر قبر میں سے اُٹھاوے۔ ہم اس وہم کے جواب میں کئی دفعہ بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ میں وعدہ کرچکا ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مرچکااور واقعی موت جو اس کے لئے مقدّر تھی اس پر وارد ہوچکی پھر دوبارہ دنیامیں نہیں بھیجا جائے گا اور نہ دنیا میں دوموتیں اُس پر وارد کی جائیں گی۔ اس جواب کے سننے کے بعد پھر وہ ایک اَور وہم پیش کرتے ہیں کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہوگئے۔ جیسے وہ مُردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھاجس کا ذکر اس آیت میں ہے