عاجز کو دی گئی تو ضرور اسی ایک بات پر اُن کااجماع ہوجاتا لیکن خدائے تعالیٰ نے ا س قطعی اور یقینی علم سے اُن کو محروم رکھاتا اپنے ایک بندہ کو کامل طورپر یہ علم دے کر آدم صفی اللہ کی طرح اس کی علمی فضیلت کا ایک نشان ظاہر کرے۔
اگر یہ کہاجائے کہ اکثر مفسّرین مسیح ابن مریم کی موت کے تو ؔ قائل ہیں لیکن یہ بھی تو کہتے ہیں کہ بعد اس کے زندہ ہوگئے۔ا س کے جواب میں مَیں کہتا ہوں کہ جن بزرگوں کو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے کے بعد اُس کے زندہ ہوجانے کا اعتقاد ہے وہ ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ مسیح کومرنے کے بعد دنیوی زندگی ملی تھی بلکہ وہ خود مانتے ہیں کہ مسیح کو مرنے کے بعد ایسی زندگی ملی تھی جو دنیوی زندگی سے بالکل مبائن اور مغائر اور عالم ثانی کی زندگی کے قسم میں سے تھی اور اس زندگی کے قسم میں سے تھی جو فوت کے بعد حضرت یحییٰ کو ملی، حضرت ادریس کو ملی، حضرت یوسف کو ملی، حضرت ابراہیم کو ملی، حضرت موسیٰ کو ملی، حضرت آدم کو ملی، اور جو سب سے زیادہ تر ہمارے سیّد و مولیٰ نبی عربی ہاشمی امّی کو ملی صلی اللّٰہ علیہ وعلی اٰلہ و اخوانہ اجمعین۔
اور اگر کوئی کہے کہ نہیں صاحب وہ زندگی جو مسیح کو مرنے کے بعد ملی وہ حقیقت میں دنیوی زندگی تھی تو ایسے قائل کو اس بات کا مان لینا لازم ہوگا کہ مسیح میں دنیوی زندگی کے لوازم موجود ہیں اور وہ اس عالم کے زندوں کی طرح ہوا کے ذریعہ سے دم لیتا ہے اور ہوا کے ذریعہ سے سونگھتا اور ہوا کے ذریعہ سے آوازیں سُنتا اور کھاتا پیتا اور تمام مکروہات، پیشاؔ ب اور پاخانہ وغیرہ کے اس کو لگے ہوئے ہیں لیکن قرآن شریف تو ان سب کی اُسکی ذات سے نفی کرتا ہے اور حدیثیں صاف اور بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ مسیح کی زندگی تمام گذشتہ اور فوت شدہ نبیوں کی زندگی سے بالکل ہمرنگ ہے۔ چنانچہ معراج کی حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے اور عیسائی لوگ بھی باوجود اس کے