لیکن یہ بات صحیح بخاری سے بھی معلوم ہوؔ چکی ہے کہ مسیح ابن مریم فوت شدہ جماعت میں داخل ہے اوریحییٰ بن زکریا کے ساتھ دوسرے آسمان میں موجود ہے۔ اورخدائے تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ کوئی شخص میری طرف بغیر مرنے کے آنہیں سکتا۔لیکن کچھ شک نہیں کہ مسیح اس کی طرف اُٹھایا گیا سو وہ ضرور مر گیا۔خدائے تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس کو 33 ۱ سے پکارا ہے۔ سو لفظ متوفّی جن عام معنوں سے تمام قرآن اور حدیثوں میں مستعمل ہے وہ یہی ہے کہ روح کو قبض کرنا اورجسم کو معطّل چھوڑ دینا یہ بڑے تعصّب کی بات ہے کہ تمام جہان کے لئے تو توفّی کے یہی معنے روح قبض کرنے کے ہوں لیکن مسیح ابن مریم کے لئے جسم قبض کرنے کے معنے لئے جاویں۔کیا ہم خاص عیسیٰ کے لئے کوئی نئی لغت بنا سکتے ہیں جو کبھی اللہ اور رسول کے کلام میں مستعمل نہیں ہوئی اورنہ عرب کے شعراء اور زبان دان کبھی اس کو استعمال میں لائے۔ پھر جس حالت میں توفّیکے یہی شائع متعارفہ معنے ہیں کہ روح قبض کی جائے خواہ بطور ناقص یابطور تام۔ تو پھر رفع سے رفع جسد کیوں مراد لیاجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس چیز پر قبضہ کیاجائے گا رفع بھی اُسی کا ہوگا۔ نہؔ یہ کہ قبض تو روح کا ہو اورجسم کا رفع کیاجائے۔ غرض برخلاف اس متبادر اور مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف سے توفی کے لفظ کی نسبت اوّل سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں ایک نئے معنے اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔خدائے تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے اگر یہ کہاجاوے کہ توفّی کے معنے تفسیروں میں کئی طور سے کئے گئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ مختلف اور متضاد اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے نہیں لئے گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ بیان جو چشمۂ وحی سے نکلا ہے اس میں اختلاف اور تناقض راہ پا سکتا بلکہ وہ مفسرین کے صرف اپنے اپنے بیانات ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ کبھی اُن کا کسی خاص معنے پر اجماع نہیں ہوا۔ اگر ان میں سے کسی کو وہ بصیرت دی جاتی جو اس