ور ہوا کے ذریعہ سے سونگھتے اور ہوا ہی کے ذریعہ سے سنتے اور روشنی کے ذریعہ سے دیکھتے ہیں۔ اور کیا وہ زمانہ کے اثر سے اب بڈھے ہوگئے ہیں ؟تو بلاشبہ اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ دنیوی ہستی کے لوازم اور خواص اُن میں باقی نہیں رہے بلکہ وہ ہریک حالت میں اُن لوگوں کے ہمرنگ ہیں جو اس دُنیا کو فوت ہونے کی وجہ سے چھوڑ گئے ہیں اور نہ صرف ہمرنگ بلکہ اس فوت شدہ جماعت میں داخل ہیں۔ سو اس جواب سے تو اُن کی موت ہی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جبکہ انہوں نے فوت شدہ لوگوں کی طرح عالم ثانی کی زندگی کے تمام لوازم اختیار کرلئے جو فوت شدہ لوگوں کی علامات میں سے ہیں اور نہ صرف اختیار ہی کئے بلکہ اس جماعت میں جاملے اور فرمان 3 ۱ کا قبول کر کے 3 ۲ کا مصداق ہوگئے۔ تو اب بھی اگر اُن کو فوت شدہ نہ کہا جائے تو اَور کیا کہا جاوے۔ ظاہرہے کہؔ عالم دو ہی ہیں۔
ایک یہ دنیا کا عالم۔ جب تک انسان اس عالم میں ہوتا ہے اور اس عالم کے لوازم جیسے کھانا پینا پہننا دم لینا جاگنا سونا اور بدنی نشوونما یا تحلیل کی وجہ سے معرض تغیّر میں ہونا اس کے شامل حال ہوتے ہیں اُس وقت تک اُس کو زندہ کہاجاتا ہے اور جب یہ لوازم بکلّی اس سے دورہوجاتے ہیں تب سب بول اُٹھتے ہیں کہ مر گیا اور پھر بمجرّد موت کے عالم ثانی کے لوازم اُس میں پیدا ہوجاتے ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ جس جماعت میں انسا ن داخل ہوتا ہے اسی جماعت کے حالات پر اس کے حالات کا قیاس کیاجاتا ہے جو شخص اس دنیا کے لوگوں میں داخل ہے وہ اسی دنیا میں سے سمجھاجائے گا او رجو شخص اس دنیا کو چھوڑگیا او رعالم ثانی کی جماعت میں جاملا وہ اسی جماعت میں سے خیال کیاجائے گا۔اب دیکھ لینا چاہیئے کہ مسیح کس جماعت میں داخل ہے جس جماعت میں داخل ہوگا اسی جماعت کے احکام اس پر وارد ہوں گے۔ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی شخص فوت شدہ جماعت میں بغیر فوت ہونے کے داخل نہیں ہو سکتا