وہی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں کہ مر گیا۔ اور اس بات میں کچھ بھی شبہ نہیں کہ یہ تبدیلی جو بہ تغیّر الفاظ موت کے نام سے موسوم ہے۔ حضرت مسیح کی دنیوی زندگی پر وارد ہوچکی ہے اور اس تبدیلی کے ضروری لوازم میں وہ اپنے اُن دوسرے بھائیوں سے کسی بات میں کم نہیں ہیں جو دنیا و مافیہا کو چھوڑ گئے۔ اس عالم کے لوگ جو مرنے کے بعد اُس جگہ پہنچتے ہیں اُن کی یہ علامات خاصہ ہیں کہ وہ نہ سوتے ہیں اور نہ اس عالم کی روٹی کھاتے ہیں اورنہ پانی پیتے ہیں اور نہ وہ بیمار ہوتے ہیں نہ انہیں پاخانہ اور پیشاب کی ضرورت ہوتی ہے نہ بالوں اور ناخنوں کے کٹانے کی انہیں حاجت پڑتی ہے اور نہ روشنی کے لئے وہ سورج اور ؔ چاند کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ اُن پر زمانہ اثرکرتا ہے اور نہ ہوا کے ذریعہ سے وہ دم لیتے ہیں اور نہ کسی روشنی کے ذریعہ سے وہ دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی وہ ہوا کے ذریعہ سے سنتے بھی نہیں اور نہ سونگھتے ہیں اور نہ توالد تناسل پر قادر ہوتے ہیں۔ غرض ایک پورا انقلاب اُن کی ہستی پر وارد ہوجاتا ہے جس کانام موت رکھا گیا ہے۔ اُن کو جسم تو دیاجاتاہے مگر وہ جسم اس عالم کے خواص اور لوازم نہیں رکھتا۔ ہاں وہ بہشت میں کھاتے پیتے بھی ہیں مگر وہ اس عالم کا طعام او ر شراب نہیں جس کا جسم عنصری محتاج ہے بلکہ وہ ایسی نعمتیں ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سُنیں اور نہ دلوں میں کبھی گذریں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح مرے نہیں اور اسی دنیوی زندگی کے ساتھ کسی آسمان پر بیٹھے ہیں تو کیا تمام لوازم جسم خاکی کے اُن میں خصوصیت کے ساتھ موجود ہیں جو دوسروں میں نہیں پائے جاتے۔ کیا وہ کبھی سوتے اور کبھی جاگتے ہیں اور کبھی اُٹھتے ہیں اور کبھی بیٹھتے ہیں اور کبھی دنیوی شراب اور طعام کو کھاتے پیتے ہیں اور کیا وہ اوقات ضروریہ میں پاخانہ پھرتے اور پیشاب بھی کرؔ تے ہیں اور کیا وہ ضرورتوں کے وقت ناخنوں کو کٹاتے اور بالوں کو منڈواتے یا قصر شعر کرواتے ہیں۔ کیا اُن کے لیٹنے کے لئے کوئی چار پائی اور کوئی بستر بھی ہے۔ کیا وہ ہوا کے ساتھ دم لیتے