باقی رہ جا ئے گی اور پھرفرماتا ہے 33 ۱؂ یعنی ہم نے یہود اور نصاریٰ میں قیامت کے دن تک عداوت اور بُغض ڈال دیاہے۔ اس آیت سے بھی صاف طورپر ثابت ہے کہ یہودی قیامت کے دن تک رہیں گے کیونکہ اگر وہ پہلے ہی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے تو پھر سلسلہ عداوت اور بُغض کا قیامت تک کیوں کر ممتدہوگا۔ لہٰذا ماننا پڑا کہ ایسا خیال کہ حضرت مسیح کے نزول کیؔ یہ علامت ہے کہ تمام اہل کتاب اُس پر ایمان لے آویں گے صریح نص قرآن اور حدیث سے مخالف ہے۔ خلاصہ فیصلہ ہمارا دعویٰ جو الہام الٰہی کی رُو سے پیداہوا اور قرآن کریم کی شہادتوں سے چمکا اور احادیث صحیحہ کی مسلسل تائیدوں سے ہر یک دیکھنے والی آنکھ کونظر آنے لگا وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ جن پر انجیل نازل ہوئی تھی وہ اس عالم سفلی سے انتقال کرگئے اور اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر جہان جاودانی کے لوگوں میں جاملے۔ اور اس جسد عنصری کے خواص اور لوازم کو ترک کر کے ان خواص اور لوازم سے متمتع ہو گئے جو صرف اُن لوگوں کو ملتے ہیں جو فوت ہوجاتے ہیں۔ اور ان لذّات سے بہرہ یاب ہوگئے جو محض اُن لوگوں کو دی جاتی ہیں جو موت کے پُل سے گذر کر محبوب حقیقی کو جاملتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص اس عالم کے لوگوں کو چھوڑ تا ہے اور عالم ثانی کے لوگوؔ ں سے جا ملتا ہے اور اس عالم کے لوازم اور خواص چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کے لوازم اور خواص قبول کرلیتا ہے اور اس عالم کی لذّات قطعًا چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کے لذات پالیتا ہے اور اس عالم کے مؤثرات ارضی وسماوی چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کی غیر متبدّل زندگی حاصل کرتا ہے اور اِس عالم سے بکلّی گم اور ناپدید ہوجاتاہے اور اُس عالم میں ظہور فرماہوتا ہے