چھ کروڑ کتاب وساوس اور شبہات کے پھیلانے کے لئے اب تک تقسیم کر دی اور آئندؔ ہ بھی بڑی سرگرمی سے یہ کارروائی جاری ہے۔ اس قوم کے مقابل پر کس زمانہ میں کوئی نظیر مل سکتی ہے۔ بلکہ چھ ہزار برس کی مدّت پر نظر ڈالنے سے کوئی نظیر پیدا نہیں ہوئی تو پھر کیا ابھی تک منشائے حدیث کے موافق ثابت نہیں ہوا کہ ان لوگوں کی فتنہ اندازی بے مثل ومانند ہے۔ زمانہ نے آخر کار جس فتنہ عظیمہ کوظاہر کیا وہ یہی فتنہ ہے جس نے لاکھوں مسلمانوں کو گرجاؤں میں بٹھا دیا۔ کروڑہا کتابیں ردّ اسلام میں تالیف ہوگئیں۔سو اس موجودہ فتنہ کو کَاَنْ لَّمْ یَکُن سمجھنا انہیں مولویوں کا کام ہے جن کے دل میں ہرگز یہ خیال نہیں کہ اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوتی دیکھ لیں۔ بعض نافہم مولوی بطور جرح یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کی یہ علامت لکھی ہے کہ دجّال معہود کو وہ قتل کرے گا اور تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں گے اور اس خیال کی تائید میں یہ آیت پیش کرتے ہیں 33 ۱؂۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ مسیح کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے تو پھر ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ دجّال کفر کی حالتؔ میں ہی قتل کیاجائے گا۔ ماسوا اس کے مسلم کی حدیث میں صاف لکھاہے کہ دجّال کے ساتھ ستّر ہزار اہل کتاب شامل ہوجائیں گے اور اکثر کی اُن میں سے کفر پرموت ہوگی اور مسیح کی وفات کے بعد بھی اکثر لوگ کافر اور بے دین باقی رہ جائیں گے جن پر قیامت آئے گی اور قرآن کریم بھی صریح اور صاف طور پر اس پر شہادت دیتا ہے کیونکہ وہ فرماتاہے۔ 3333 ۲؂ یعنی میں تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر یعنی یہود پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے دن تک یہود کی نسل تھوڑی بہت