شرم آتی ہے کہ باوجود قرائن قویہ کے بھی کسی حدیث کے ظاہری معنے کو چھوڑ سکیں اور قرآن اور حدیث کو باہم تطبیق دے کر ابن مریم سے روحانی طورپر ابن مریم کا مصداق مراد لے لیں اور دجّال یک چشم سے روحانی یک چشمی کی تعبیر کرلیں اور قرآن کے انکار سے اپنے تئیں بچالیں۔ نہیں سوچتے کہ ابن مریم یا یک چشم کا لفظ بھی اُسی پاک مُنہ سے نکلا ہے جس سے لمبے ہاتھ کا لفظ نکلا تھا بلکہ لمبے ہاتھ کے حقیقی اور ظاہر ی معنے مرادہونے پر تو تصدیقِ نبوی بھی ہو چکی تھی۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہی سرکنڈہ کے ساتھ ہاتھ ناپے گئے تھے اور سودہؓ کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے تھے اور یہی قرار پایا تھا کہ سب سے پہلے سودہؓ فوت ہوگی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو ناپتے دیکھ کر بھی منع نہیں فرمایا تھا جس سے اجماعی طورپر سودہؓ کی وفات تمام بیویوں سے پہلے یقین کی گئی۔ لیکن آخر کا ر ظاہری معنے صحیح نہ نکلے۔ جس سے ثابت ہوا کہ اس پیشگوئی کی اصل حقیقت آنحضرت صل اللہ علیہ ؔ وسلم کو بھی معلوم نہیں تھی۔
اگر حال کے علما ء ذراسوچیں اور تواریخ کے صفحہ صفحہ پرنظر ڈالیں اور آدم کے وقت سے آج تک جو قریب چھ ہزار برس کے گذرا ہے جس قدر دین حق کے مقابلہ پر فتنہ اندازیاں ہوئی ہیں اُن کاحال کی فتنہ اندازیوں اور کوششوں سے موازنہ کریں تو خود انہیں اقرار کرنا پڑے گا جو باطل کو حق کے ساتھ ملانے کے لئے جس قدر منصوبے اس عیسائی قوم سے ظہور میں آئے اور آرہے ہیں اس کا کروڑم حصّہ بھی کسی دوسری قوم سے ہرگز ظہور میں نہیں آیا۔ اگرچہ ناحق کے خون کرنے والے ،کتابوں کے جلانے والے ،راستبازوں کو قید کرنے والے بہت گذرے ہیں مگر اُن کے فتنے دلوں کو تہ و بالا کرنے والے نہیں تھے بلکہ مومن لوگ دُکھ اُٹھا کر اَور بھی زیادہ استقامت میں ترقی کرتے تھے۔لیکن اِن لوگوں کا فتنہ دلوں پر ہاتھ ڈالنے والا اور ایمان کو شبہات سے ناپا ک کرنے والا ہے جواعتقادوں کے بگاڑنے کے لئے زہر ہلاہل کا اثر رکھتا ہے۔ خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم نے