اس کے گدھے کی بھی خبردی ہے جو خشکی اورتری دونو ں کو چیرتا ہوا دور دور ملکوں تک انہیں پہنچاتا ہے اور اُن کے یک چشم ہونے سے بھی اطلاع بخشی ہے اور اُن کی بہشت اور دوزخ اور روٹیوں کے پہاڑ اور خزانوں سے بھی مطلع فرمایا ہے ۔ تو پھر اِن حدیثوں کے سوا جو دجّال کے حق میں ہیں اورکونسی حدیثیں ہمارے پاس ہیں جو اس دعویٰ کی تائید میں ہم پیش کر یں۔ اور اگر ہم موجودہ حدیثوں کو اُن پر وارد نہ کریں بلکہ وہمی اور فرضی طورپر کوئی اوردجّال اپنے دل میں تراش رکھیں جو کسی اَور زمانہ میں ظاہر ہوگا تو پھر ان کے لئے حدیثیں کہاں سے لاویں۔اور ظاہرہے کہ موجود کو چھوڑ کر وہم اور خیال کی طرف دوڑنا بلاشبہ حق پوشی ہے۔ کیونکہ جو موجود ہوگیاہے اور جس کوہم نے بچشم خودؔ دیکھ لیا ہے اور اس کے بے مثل فتنوں کو مشاہدہ کر لیا ہے اور تمام پیشگوئیوں کا اس کو مصداق بھی سمجھ لیا ہے۔ اگر پھر بھی ہم اس کو ان پیشگوئیوں کا حقیقی مورد نہ ٹھہراویں تو گویا ہماری یہ مرضی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی پوری ہو۔ حالانکہ سلف صالح کا یہ طریق تھا کہ اس بات پر سخت حریص تھے کہ پیشگوئی پوری ہوجائے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کی نسبت کہ حرم کعبہ میں ایک مینڈھا ذبح کیاجائے گا وہ لوگ مینڈھے کے ذبح ہونے کے منتظر نہ رہے بلکہ جب حضرت عبد اللہ ابن زبیر شہید ہوئے تو انہوں نے یقینًا سمجھ لیاکہ یہی مینڈھا ہے حالانکہ حدیث میں انسان کانام نہیں وہاں تو صاف مینڈھالکھا ہے اور اس پیشگوئی کے متعلق بھی جو بخاری اور مسلم میں درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے پہلے وہ فوت ہوگی جس کے لمبے ہاتھ ہوں گے انہوں نے زینبؓ کی وفات کے وقت یقین کرلیا کہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ حالانکہ یہ بات اجماعی طورپر تسلیم ہوچکی تھی کہ سودہؓ کے لمبے ہاتھ ہیں وہی پہلے فوت ہوگی۔ اُن بزرگوں نے جب دیکھا کہ پیشگوئی کے الفاظ کو حقیقت پر حمل کرنے سے پیشگوئی ہی ہاتھؔ سے جاتی ہے تو لمبے ہاتھوں سے ایثار اور صدقہ کی صفت مراد لے لی۔ لیکن ہمارے زمانہ کے علماء کو اس بات سے