آباد کرتے جاتے ہیں اور جس ملک ویران پر قبضہ کرتے ہیں اس کو کہتے ہیں کہ تو اپنے خزانے باہر نکال۔ تب ہزارہا وجوہ تحصیل مال کی اُسی ملک سے نکال لیتے ہیں۔زمین کو آباد کردیتے ہیں امن کو قائم کردیتے ہیں۔لیکن وہ تمام خزائن انہیں کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور انہیں کے ملک کی طرف وہ تمام روپیہ کھنچا ہوا چلاجاتاہے۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ مثلًا ملک ہند کے خزانے یورپ کی طرف حرکت کررہے ہیں۔ یورپ کے لوگ آپ ہی ان خزائن کو نکالتے ہیں اور پھر اپنے ملکؔ کی طرف روانہ کرتے ہیں۔
غرض اِن تمام احادیث پر عمیق غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی فرمائی ہے اور انہی لوگوں کانام دجّال رکھا ہے اور قرآن کریم میں اگرچہ بتصریح کسی جگہ دجّال کے نکلنے کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن کچھ شک نہیں کہ قرآن کریم نے دخان کا ذکر کر کے اسی کے ضمن میں دجّال کو داخل کردیاہے اور پھر اس زمانہ کا بیان بھی قرآن میں ہے کہ جب دنیا میں دخان کے بعد نوراللہ پھیلے گا اور اس نوارنی زمانہ سے مراد وہی زمانہ ہے کہ جب مسیح موعود کے ظہور کے بعد پھر دنیا نیکی کی طرف رُخ کرے گی۔ کچھ شک نہیں کہ یہ زمانہ جو ہنوز دخانی زمانہ ہے سچائی کی حقیقت کو بہت دور چھوڑ گیا ہے اور دجّالی ظلمت نے دلوں پر ایک سخت اثر ڈالا ہے۔ اور کروڑہا مخلوقات شیاطین الانس کے اغوا سے توحید اور راستی اور ایمان سے باہر ہوگئی ہے۔ اب اگر فرض کیاجائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دجّال کی جو عیسائی پادریوں کا گروہ ہے خبر نہیں دی جس کی نظیر دنیا کی ابتداء سے آج تک نہیں پائی جاتیؔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کشفیہ پر سخت اعتراض ہوگا کہ ایسا بڑا فتنہ جو اُن کی اُمّت کے لئے درپیش تھاجس میں نہ ستّرہزار بلکہ ستّر لاکھ سے زیادہ متفرق ملکوں میں لوگ دین اسلام سے انحراف کر چکے ہیں اس کی آنحضرت نے خبر نہیں دی۔ لیکن اگر جیسا کہ شرط انصاف ہے ہم تسلیم کرلیں کہ آنجناب نے اس دجّال کی خبر دی ہے۔ اور