کہ جب دجّال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کردے گا۔
(۱۰) دجّال خدا نہیں کہلائے گا بلکہ خدائے تعالیٰ کا قائل ہوگا بلکہ بعض انبیاء کا بھی۔ مسلم۔
اِن دسوں علامتوں میں سے ایک بھاری علامت دجّال معہود کی یہ لکھی ہے کہ اُس کا فتنہ تمام اُن فتنوں سے بڑھ کر ہوگا کہ جو ربّانی دین کے مٹانے کے لئے ابتداسے لوگ کرتے آئے ہیں اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کرچکے ہیں کہ یہ علامت عیسائی مشنوں میں بخوبی ظاہر وہویدا ہے۔
از انجملہ ایک بڑی بھاری علامت دجّال کی اُس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستّر باع کیاگیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہے جیسے بادل ہواکے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طورپر ریلؔ گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجادہے جن کا امام ومقتدا یہی دجّالی گروہ ہے اس لئے اِن گاڑیوں کو دجّال کا گدھا قرار دیا گیا۔ اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا کہ علاماتِ خاصہ دجّال کے انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے مکروں اور فریبوں کا اپنے وجود پر خاتمہ کردیا ہے اور دین اسلام کو وہ ضرر پہنچایا ہے جس کی نظیر دنیا کے ابتداء سے نہیں پائی جاتی اور انہیں لوگوں کے متبعین کے پاس وہ گدھا بھی ہے جو دخان کے زور سے چلتا ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے۔ اور انہیں لوگوں کے متبعین زمین کو
کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایاجائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا جیسا کہ فرماتا ہے لوکان الایمان معلقًا عند الثریا لنالہ رجل من فارس۔ یہ حدیث درحقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیت 33 میں اشارۃً بیان کیاگیا ہے۔ منہ