(۶)دجّال جب گدھے پر سوار ہوگاتو گدھا جس جلدی سے چلے گا اس کی یہ مثال ہے کہ جیسے بادل اس حالت میں چلتا ہے جبکہ پیچھے اس کے ہوا ہو۔ یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دجّال کاگدھاکوئی جاندار مخلوق نہیں ہوگا بلکہ وہ کسی ہوائی مادہ کے زور سے چلے گا۔
(۷) زمین اور آسمان دونوں دجّال کے فرمانبردار ہوں گے یعنی خدائے تعالیٰ اس کی تدبیر کے ساتھ تقدیر موافق کردے گا اور اس کے ہاتھ پر زمین کو اُس کی مرضی کے موافق آباد کریگا۔
(۸) دجّال مشرق کی طرف سے خروج کرے گا یعنی ملک ہند سے کیونکہ یہ ملک زمین حجاز سے مشرق کی طرف ہے۔ متفق علیہ۔
(۹) دجّال جس ویرانہ پر گذرے گا اُسے کہے گا کہ تُو اپنے خزانے باہر نکال۔ سو وہ تمام خزانے باہر نکل آئیں گے اوردجّال کے پیچھے پیچھے جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دجّال زمین سے بہت فائدہ اٹھائے گا۔اور اپنی تدبیروں سے زمین کو آباد کرے گا اور ویرانے کوؔ خزانے کر کے دکھا ئے گا پھر آخر باب لُدپر قتل کیاجائیگا۔لُد اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے
بسر کرنا انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے اور انکے دلی اور دماغی قویٰ پر بہت بُرا اثر ان سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الٰہی کے لئے ضرور ی ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیرکی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کرسکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثرڈا لتی ہیں بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روشی کی مزاحم ہورہی ہیں۔ کیوں مزاحم ہورہی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اکثر زوائد کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم نہیں ہے قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پراؔ ٹھایاگیاہے۔ وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایاتھا اس سے لوگ بے خبر ہیں وہ عرفان جو قرآن نے بخشاتھا اس سے لوگ غافل ہوگئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اُترتا۔ انہیں معنوں سے