(۳) دجّال کے ساتھ بعض اسباب تنعّم اور آسائش جنت کی طرح ہوں گے اور بعض اسباب محنت اور بلا کے آگ یعنی دوزخ کی طرح ہوں گے (بخاری و مسلم ) جس قدر عیسائی قوم نے تنعّم کے اسباب نئے سے نئے ایجاد کئے ہیں اور جو دوسری راہوں سے محنت اور بلا اور فقر اور فاقہ بھی اُن کے بعض انتظامات کی وجہ سے دیس کے لوگوں کو پکڑتاجاتا ہے اگریہ دونوں حالتیں بہشت اور دوزخ کے نمونے نہیں ہیں تو اور کیا ہے۔ (۴) دجّال کے بعض دن برس کی طرح ہوں گے اور بعض دن مہینہ کی طرح اور بعض دن ہفتہ کی طرح مگر یہ نہیں کہ دنوں میں فرق ہوگا بلکہ اُس کے دن اپنی مقدار میں ایسے ہی ہوں گے جیسے تمہارے۔ مسلم۔ (۵) دجّال کے گدھے کا اس قدر جسم ہوگا کہ اس کے ایک کان سے دوسرے کان تک ستّر باع کافاصلہ ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس جسامت کی گدھی خدائے تعالیٰ نے پیدا نہیں کی تا امید کی جائے کہ ان کی اولاد سے ؔ یہ گدھا ہوگا۔ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ خدائے تعالیٰ پر یہ الزام لگانا کہ ایسے جہاد اور ایسی لڑائیاں اس کے حکم سے کی تھیں یہ دوسرا گناہ ہے۔ کیا خدائے تعالیٰ ہمیں یہی شریعت سکھلاتا ہے کہ ہم نیکی کیؔ جگہ بدی کریں۔ اور اپنی محسن گورنمنٹ کے احسانات کا اس کو یہ صلہ دیں کہ اُن کی قوم کے صغر سن بچوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کریں اور ان کی محبوبہ بیویوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں۔ بلاشبہ ہم یہ داغ مسلمانوں خاص کر اپنے اکثر مولویوں کی پیشانی سے دھو نہیں سکتے کہ وہ ۵۷ ؁ء میں مذہب کے پردہ میں ایسے گناہ عظیم کے مرتکب ہوئے جس کی ہم کسی قوم کی تواریخ میں نظیرنہیں دیکھتے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ انہوں نے اور بھی ایسے بُرے کام کئے جو صرف وحشی حیوانات کی عادات ہیں نہ انسانوں کی خصلتیں۔ انہوں نے نہ سمجھا کہ اگر اُن کے ساتھ یہ سلوک کیاجائے کہ ایک ممنون منت اُن کااُن کے بچوں کومار دے اوران کی عورتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرے تو اُس وقت اُن کے دل میں کیا کیا خیال پیدا ہوگا۔ باوجوؔ د اس کے یہ مولوی لوگ ا س بات کی شیخی مارتے ہیں کہ ہم بڑے متقی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ نفاق سے زندگی