جس سے ایسے لوگ مراد ہیں جو کذّاب ہوں۔چنانچہ قاموس میں یہی معنے لکھےؔ ہیں کہ دجّال اس گرو ہ کو کہتے ہیں کہ جو باطل کو حق کو ساتھ ملانے والااور زمین کونجس کرنے والا ہو۔ اور مشکٰوۃ کتاب الفتن میں مسلم کی ایک حدیث لکھی ہے جس میں دجّال کے ایک گروہ ہونے کی طرف صریح اشارہ کیاگیا ہے۔
اب جانناچاہیئے کہ دجّال معہود کی بڑی علامتیں حدیثوں میں یہؔ لکھی ہیں۔
(۱) آدم کی پیدائش سے قیامت کے دن تک کوئی فتنہ دجّال کے فتنے سے بڑھکر نہیں یعنی جس قدر دین اسلام کے تخریب کے لئے فتنہ اندازی اس سے ظہور میں آنے والی ہے اور کسی سے ابتداء دنیا سے قیامت کے وقت تک ظہور میں نہیں آئیگی۔ صحیح مسلم۔
(۲)دجّال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف اور رویا میں دیکھا کہ دہنی آنکھ سے وہ کانا ہے اور دوسری آنکھ بھی عیب سے خالی نہیںؔ ۔ یعنی دینی بصیرت اُن کو بکلّی نہیں دی گئی اور تحصیل دنیا کی وجوہ بھی حلال اور طیّب نہیں۔ بخاری اور مسلم۔
کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کی رعیت اور ان کے زیر سایہ تھے اور رعیت کا اس گورنمنٹ کے مقابل پر سر اٹھاناجس کی وہ رعیت ہے اور جس کے زیر سایہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتی ہے سخت حرام اورمعصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکروہ بدکاری ہے۔جب ہم ۱۸۵۷ ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتووں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کردینا چاہیئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے اُن کے فتوے تھے۔ جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ اؔ نصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔ننھے ننھے بچوں اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا اورنہایت بے رحمی سے انہیں پانی تک نہ دیا۔ کیا یہ حقیقی اسلام تھا یایہودیوں کی خصلت تھی۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ خدائے تعالےٰ نے اپنی کتاب میں ایسے جہاد کاکسی جگہ حکم دیا ہے۔ پس اس حکیم وعلیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ۱۸۵۷ ء میں میرا کلام آسمان پر اُٹھایاجائیگا یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے جیساکہ