زور کے ساتھ خروج کررہا ہے اورجو اعدا د آیت33 ۱؂ سے سمجھا جاتا ہے یعنی ۱۸۵۷ ؁ء کا زمانہ۔ * تو ساتھ ہی اس عاجز کا مسیح ہونا بھی ثابت ہوجائے گا۔ اور ہمؔ پہلے بھی تحریر کرآئے ہیں کہ عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ دجّال معہود ہے۔ اگرچہ حدیثوں کے ظاہر الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ دجّال ایک خاص آدمی ہے جو ایک آنکھ سے کانا اوردوسری بھی عیب دار ہے لیکن چونکہ یہ حدیثیں جو پیشگوئیوں کی قسم سے ہیں مکاشفات کی نوع میں سے ہیں جن پر موافق سُنّت اللہ کے استعارہ اور مجاز غالب ہوتاؔ ہے۔ جیسا کہ مُلّا علی قاری نے بھی لکھا ہے اور جن کے معنے سلف صالح ہمیشہ استعارہ کے طور پر لیتے رہے ہیں۔ اس لئے بوجہ قرآئن قویہ ہم دجّال کے لفظ سے صرف ایک شخص ہی مراد نہیں لے سکتے۔رویا اور مکاشفہ میں اسی طرح سُنّت اللہ واقع ہے کہ بعض اوقات ایک شخص نظر آتا ہے اور اس سے مراد ایک گروہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے نبیؔ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں ایک شخص نے ایک عرب کے بادشاہ کو خوا ب میں دیکھا تھاتو آپ نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد ملک عرب ہے جو ایک گروہ ہے۔ اوراس ہمارے بیان پر یہ قرینہ شاہد ناطق ہے کہ دجّال درحقیقت لغت کی رُو سے اسم جنس ہے ۱۸۵۷؁ء کی طرف اشارہ ہے جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہوگئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ۱۲۷۴ ہیں اور ۱۲۷۴کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ۱۸۵۷ ؁ء ہوتاہے۔ سو درحقیقت ضعف اسلام کازمانہ ابتدائی یہی ۱۸۵۷ ؁ء ہے جس کی نسبت خدائے تعالےٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتاہے کہ جب وہ زمانہ آئیگا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائیگا۔ سو ایساہی ۱۸۵۷ ؁ء میں مسلمانوں کی حالت ہوگئی تھی کہ بجُز بدچلنی اور فسق وفجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یادنہ تھا جس کا اثر عوا م پر بہت پڑ گیا تھا انہیں ایام میں انہوں نے ایک ناجاؔ ئز اور ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا۔ حالانکہ ایسامقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعًا جائز نہ تھا