لا بد انشاء اللّٰہ ان ینزل عیسٰی علیہ السلام فی حیاتی وانظر ہ بعینی۔ یعنی میں جو محمد ابن احمد مکّی رہنے والا خاص مکّہ معظمہ محلہ شعب عامر کا ہوں کہتا ہوں کہ میں نے ۱۳۰۵ ؁ہجری میں خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ میرا باپ کھڑا ہے اور مَیں اس کے ساتھ ہوں اس وقت جو میں نے مشرق کی طرف نظر اٹھا کر دیکھاتو کیا دیکھتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتر آیا اور میں ارادہ کر رہا ہوں کہ وضو کروں سو میں نے دریا کی طرف رُخ کیاپھر وضو کرکے اپنے باپ کی طرف چلا آیا۔ تب میں نے اپنے باپ کو کہا کہ عیسےٰ علیہ السلام تو نازل ہوگیا اب میں کس طور سے نماز پڑھوں سو میرے باپ نے مجھے کہا کہ وہ دین اسلام پر اُترا ہے اور اس کا دین کوئی الگ دین نہیں بلکہ وہ تو نبی صلی اللہ علیہؔ وسلم کا ہی دین رکھتا ہے۔ سو تُو اُسی طرح نماز پڑھ جیسے پہلے پڑھاکرتا تھا۔تب میں نے نماز پڑھ لی۔پھر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دل میں کہا کہ انشاء اللہ عیسٰی علیہ السلام میری زندگی میں اُترآئے گا اور میں اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ لوں گا۔ از انجملہ اس عاجز کے مسیح موعود ہونے پر یہ نشان ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کی خصوصیت کے ساتھ یہ علامت ہے کہ دجّال معہود کے خروج کے بعد نازل ہو۔کیونکہ یہ ایک واقعہ مسلّمہ ہے کہ دجّال معہود کے خروج کے بعد آنے والاوہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے جس کا مسلم کی حدیث میں وجہ تسمیہ مسیح ہونے کا یہ بیان کیاگیا ہے کہ وہ مومنوں کی شدت اورمحنت اور ابتلا کا غبارجو دجّال کی وجہ سے اُن کے طاری حال ہوگا اُن کے چہروں سے پونچھ دے گا یعنی دلیل اور حجت سے اُن کو غالب کر دکھائے گا۔سو اِ س لئے وہ مسیح کہلائے گا کیونکہ مسح پونچھنے کو کہتے ہیں جس سے مسیح مشتق ہے۔ اورضرور ہے کہ وہ دجّال معہود کے بعد ناز ل ہو۔ سو یہ عاجز دجّال معہود کے خروج کے بعد آیا ہے۔پس اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ دجّاؔ ل معہود یہی پادریوں اورعیسائی متکلموں کا گروہ ہے جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کاموں سے تہ وبالا کردیا ہے اورجو ٹھیک ٹھیک اس وقت سے