بہت فائدہ ہوگا۔ چنانچہ تھوڑے دنوں کے بعد قحط پڑا اور بیوپاری لوگوں کو اس قحط میں بہت فائدہ ہوا۔ ایسی ہی اُن کی اَور بھی کئی پیشگوئیاں تھیں جو پوری ہوتی رہیں۔ اس بزرگ نے ایک دفعہ جس بات کو عرصہ تیس سال کا گذراہوگا مجھ کو کہا کہ عیسیٰ اب جوا ن ہوگیا ہے اورلدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا اورقرآن کی رو سے فیصلہ کرے گا اور کہا کہ مولوی اس سے انکار کریں گے پھر کہا کہ مولوی انکارکرجائیں گے۔ تب میں نے تعجب کی راہ سے پوچھا کہ کیا قرآن میں بھی غلطیاں ہیں قرآن تو اللہ کا کلام ہے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں ہوگئیں اور شاعری زبان پھیل گئی ( یعنی مبالغہ پر مبالغہ کر کے حقیقتوں کو چھپایا گیا جیسے شاعر مبالغات پر زور دیکر اصل حقیقت کو چھپا دیتا ہے ) پھر کہاکہ جب وہ عیسیٰ آئے گا تو فیصلہ قرآن سے کرے گا۔پھر اس مجذوب نے بات کو دوہرا کریہ بھی کہاتھا کہؔ قرآن پر کرے گا اور مولوی انکار کرجائیں گے۔اورپھر یہ بھی کہا کہ انکارکریں گے اور جب وہ عیسیٰ لدھیانہ میں آئے گا تو قحط بہت پڑے گا۔ پھر میں نے پوچھا کہ عیسیٰ اب کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ بیچ قادیان کے یعنی قادیان میں تب میں نے کہا کہ قادیان تو لدھیانہ سے تین کوس ہے وہاں عیسیٰ کہاں ہے (لدھیانہ کے قریب ایک گاؤں ہے جس کانام قادیان ہے )اس کا انہوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ اور مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ ضلع گورداسپور ہ میں بھی کوئی گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے۔ پھر میں نے اُن سے پوچھا کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ آسمان پر اٹھائے گئے اور کعبہ پر اُتریں گے۔ تب انہوں نے جواب دیا۔ عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ تو مر گیا ہے اب وہ نہیں آئے گا ہم نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ مر گیا ہے ہم بادشاہ ہیں جھوٹ نہیں بولیں گے اور کہاکہ جو آسمانوں والے صاحب ہیں وہ کسی کے پاس چل کرنہیں آیا کرتے ۔ المظھر میاں کریم بخش بمقام لدھیانہ محلہ اقبال گنج ۱۴ جون ۱۸۹۱ ؁ء روز شنبہ