کی طرف اشارہ ہے کہ علم اور حکمت کی مانند کوئی مال نہیں۔ یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آ کر اس مال کو اس قدرتقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے ۔ یہؔ نہیں کہ مسیح درم و دینارکوجو مصداق آیت 3 ۱؂ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر یک کومال کثیر دے کرفتنہ میں ڈال دے گا مسیح کی پہلی فطرت کو بھی ایسے مال سے مناسبت نہیں۔ وہ خو د انجیل میں بیان کرچکا ہے کہ مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر حقائق و معارف اُس کا مال ہیں۔ یہی مال انبیاء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اِسی کو تقسیم کرتے ہیں۔ اسی مال کی طرف اشارہ ہے کہ اِنّما انا قاسم واللّٰہ ھو المُعطی۔ حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اُس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اُٹھ جائے گا اور جہل شیوع پاجائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے لوکان الایمان معلّقًا عند الثریا لنالہ‘ رجل من فارس۔ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہؤ ا جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں شروع ہوگا جو آیت3 3۲؂ میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی ۱۲۷۴ ؁ھ۔ اس مقام کو غور سے دیکھو اورجلدی سے نکل نہ جاؤ۔ اور خدا سےؔ دعا مانگو کہ وہ تمہارے سینوں کو کھول دے۔ آپ لوگ تھوڑے سے تامّل کے ساتھ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ حدیثوں میں یہ وارد ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن زمین سے اٹھا لیا جائے گا اور علم قرآن مفقود ہوجائے گا اور جہل پھیل جائے گا اور ایمانی ذوق اور حلاوت دلوں سے دورہوجائے گی۔پھر ان حدیثوں میں یہ حدیث بھی ہے کہ اگر ایمان ثریّا کے پاس جا ٹھہرے گا یعنی زمین پر اس کا نام و نشان نہیں رہے گاتو ایک آدمی فارسیوں میں سے اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور وہیں ثریا کے پا س سے اس کو لے لیگا