یعنی یہ قرآن ا س راہ کی طرف ہدایت کرتا ہے جو نہایت سیدھی ہے اِس میں اُن لوگوں کے لئے جو پرستا ر ہیں حقیقی پرستش کی تعلیم ہے اور یہ اُن کے لئے جو متقی ہیں کمالا ت تقویٰ کے یاد دلانے والا ہے یہ حکمت ہے جو کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور یہ یقینی سچائی ہے اور اس میں ہریک چیز کا بیان ہے یہ نورٌ علٰی نور اور سینوں کو شفابخشنے والا ہے۔ رحمٰن نے قرآن کو سکھلایا۔ ایسی کتاب نازل کی جو اپنی ذات میں حق ہے اور حق کے وزن کرنے کے لئے ایک ترازو ہے وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اجمالی ہدایتوں کی اس میں تشریح ہے اور وہ اپنے دلائل کے ساتھ حق اور باطل میں فرق کرتا ہے اور وہ قول فصل ہے اور شک اور شبہ سے خالی ہے ہم نے اِس کو اس لئے تجھ پر اتارا ہے کہ تا امور متنازعہ فیہ کا اس سے فیصلہ کردیں اور مومنوں کے لئے ہدایتؔ اور رحمت کا سامان طیارکر دیں۔ اِس میں وہ تمام صداقتیں موجود ہیں جو پہلی کتابوں میں متفرق اور پراگندہ طور پر موجود تھیں ایک ذرّہ باطل کا اس میں دخل نہیں نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ یہ لوگوں کے لئے روشن دلیلیں ہیں اور جویقین لانے والے ہوں اُن کے لئے ہدایت ورحمت ہے سو ایسی کونسی حدیث ہے جس پر تم اللہ اور اُس کی آیات کو چھوڑ کر ایمان لاؤ گے یعنی اگر کوئی حدیث قرآن کریم سے مخالف ہو تو ہرگز نہیں ماننی چاہیئے بلکہ ردّ کر دینی چاہیئے۔ ہاں اگر کوئی حدیث بذریعہ تاویل قرآن کریم کے بیان سے مطابق آسکے مان لینا چاہیئے۔ پھر بعد اس کے ترجمہ بقیہ آیا ت کا یہ ہے کہ اُن کو کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل ورحمت سے یہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو۔ یہ اُن مالوں سے اچھا ہے جو تم جمع کرتے ہو یہ اس بات