کہ بوجہ نہ ثابت ہونے بالائی رہنمائی کے اور بباعث نہ معلوم ہونے تحریکات طاقت بالا کے خود اس صانع کی ذات کے بارہ میں طرح طرح کے وساوس دلوں میں پیداہوجائیں گے سو ایسا خیال کہ خالق حقیقی کے تمام دقیق در دقیق بھیدوں کے سمجھنے کے لئے صرف عقل ہی کافی ہے کس قدر خام اور نا سعادتی پر دلالت کررہا ہے۔
اور ان لوگوں کے مقابل پر دوسرا گروہ یہ ہے کہ جس نے عقل کو بکلّی معطّل کی طرح چھوڑ دیا ہے۔ اورایسا ہی قرآن شریف کو بھی چھوڑ کر جو سرچشمہ تمام علوم الٰہیہ ہے صرف روایات و اقوال بے سرو پا کو مضبوط پکڑ لیا ہے۔ سو ہم اِن دونوں گروہ کو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کی عظمت ونورانیت کا قدر کریں اور اس کے نور کی رہنمائی سے عقل کو بھی دخل دیں اور کسی غیر کا قول تو کیا چیز ہے اگر کوئی حدیث بھی قرآن کریم کے مخالف پاویںؔ تو فی الفور اس کو چھوڑ دیں جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے3 ۱ یعنی قرآن کریم کے بعد کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ اور ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس وہ نص جو اوّل درجہ پر قطعی اور یقینی ہے قرآن کریم ہی ہے۔ اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں وَالظَّنُّ33مندرجہ ذیل صفات قرآن کریم کی غور سے پڑھو اور پھر انصافًا خود ہی کہو کہ کیا مناسب ہے کہ اس کلام کو چھوڑ کر کوئی اور ہادی یا حَکَم مقرر کیا جائے۔ اور وہ آیات یہ ہیں