قرآن کریم کی شان بلند جو اُسی کے بیان سے ظاہرہوتی ہے وکل العلم فی القراٰن لٰکن تقاصر منہ افھام الرّجال جاننا چاہیئے کہ اس زمانہ میں اسباب ضلالت میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی نظر میں عظمت قرآن شریف کی باقی نہیں رہی۔ ایک گروہ مسلمانوں کا ایسا فلاسفہ ضالّہ کا مقلّد ہوگیا کہؔ وہ ہر ایک امر کا عقل سے ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کابیان ہے کہ اعلیٰ درجہ کا حَکم جو تصفیہ تنازعات کے لئے انسان کو ملا ہے وہ عقل ہی ہے ۔ ایسے ہی لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وجود جبرائیل اورعزرائیل اور دیگر ملائکہ کرام جیسا کہ شریعت کی کتابوں میں لکھا ہے اور وجودجنت و جہنم جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتاہے وہ تمام صداقتیں عقلی طور پر بپایۂ ثبوت نہیں پہنچتیں تو فی الفور اُ ن سے منکر ہوجاتے ہیں اور تاویلات رکیکہ شروع کر دیتے ہیں کہ ملائک سے صرف قوتیں مراد ہیں اور وحی رسالت صرف ایک ملکہ ہے اور جنت اور جہنّم صرف ایک روحانی راحت یا رنج کانام ہے۔ان بے چاروں کو خبر نہیں کہ آلہ دریافت مجہولات صرف عقل نہیں ہے و بس۔بلکہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اورانتہائی مقام کے معارف تو وہی ہیں جو مبلغ عقل سے صدہادرجہ بلند تر ہیں جو بذریعہ مکاشفات صحیحہ ثابت ہوتی ہیں۔اور اگر صداقتوں کا محک صرف عقل کو ہی ٹھہرایاجائے تو بڑے بڑے عجائبات کارخانہ الوہیت کے در پردۂ مستوری و محجوبی رہیں گے اور سلسلہ معرفت کا محض ناتمام اور ناقصؔ اور ادھورا رہ جائے گا اورکسی حالت میں انسان شکوک اور شبہات سے مَخلصی نہیں پاسکے گا اور اس یک طرفہ معرفت کا آخری نتیجہ یہ ہو گا