ہے وہ آسمان سے ہی اُتری ہے۔ اس طرح پر کہ اِن چیزوں کے علل موجبہ اُسی خالق حقیقی کی طرف سے ہیں اورنیز اس طرح پر کہ اُسی کے الہام اورالقاء اورسمجھانے اورعقل اورفہم بخشنے سے ہر یک صنعت ظہورمیں آتی ہے لیکن زمانہ کی ضرورت سے زیادہ ظہور میں نہیں آتی اور ہریک مامور من اللہ کو وسعت معلومات بھی زمانہ کی ضرورؔ ت کے موافق دی جاتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس قرآن کریم کے دقائق و معارف و حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق ہی کھلتے ہیں۔ مثلًا جس زمانہ میں ہم ہیں اور جن معارف فرقانیہ کے بمقابل دجّالی فرقوں کی ہمیں اس وقت ضرورت آپڑ ی ہے وہ ضرورت اُن لوگوں کو نہیں تھی جنہوں نے اِن دجّالی فرقوں کا زمانہ نہیں پایا۔ سو وہ باتیں اُن پر مخفی رہیں اورہم پر کھولی گئیں۔ مثلًا اس بات کی انتظار میں بہت لوگ گذر گئے کہ سچ مچ مسیح ابن مریم ہی دوبارہ دنیا میں آجائے گا اور خدائے تعالیٰ کی حکمت اورمصلحت نے قبل از وقت اُن پر یہ راز نہ کھولا کہ مسیح کے دوبارہ آنے سے کیا مراد ہے۔ اب جو یہودیت کی صفتوں کا عام وبا پھیل گیا اور مسیح کے زندہ ماننے سے نصاریٰ کو اپنے مشرکانہ خیالات میں بہت سی کامیابی ہوئی۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اب اصل حقیقت ظاہرکرے۔ سو اس نے ظاہر کر دیا کہ مسلمانوں کا مسیح مسلمانوں میں سے ہی ہو گا جیسا کہ بنی اسرائیل کا مسیح بنی اسرائیل میں سے ہی تھا۔ اوراچھی طرح کھول دیا کہ اسرائیلی مسیح فوت ہوؔ چکا ہے اوریہ بھی بیان کر دیا کہ فوت شدہ پھر دنیا میں آنہیں سکتا۔ جیسا کہ جابرؓ کی حدیث میں بھی مشکٰوۃ کے باب مناقب میں اسی کے مطابق لکھاہے اور وہ یہ ہے قا ل قد سبق القول منّی انّھم لا یرجعون۔ رواہ الترمذی یعنی جو لوگ دنیا سے گذر گئے پھر وہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔