کے لئے اگر کوئی نبی آتا تو پھر خاتم الانبیاء کیؔ شان عظیم میں رخنہ پڑتا۔ اور یہ تو ثابت ہے کہ اس مسیح کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی فضیلت حاصل ہے کیونکہ اِس کی دعوت عام ہے اوراس کی خاص تھی اور اس کو طفیلی طورپر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے کے لئے ضروری طورپر وہ حکمت اور معرفت سکھلائی گئی ہے جو مسیح ابن مریم کو نہیں سکھلائی تھی کیونکہ بغیر ضرورت کے کوئی علم عطا نہیں ہوتا۔ وماننزّلہ اِلّا بقدرٍ معلوم۔ قرآن کریم کے رُو سے مثیل مسیح کا آخری زمانہ میں اس اُمّت میں آنا اس طور سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم اپنے کئی مقامات میں فرماتا ہے کہ اس اُمّت کو اسی طرز سے خلافت دی جائیگی اور اسی طرز سے اس اُمّت میں خلیفے آئیں گے جو اہل کتاب میں آئے تھے۔ اب ظاہرہے کہ اہل کتاب کے خلفاء کا خاتمہ مسیح ابن مریم پر ہوا تھا جو بغیر سیف وسنان کے آیا تھا۔ مسیح درحقیقت آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کاتھا۔ لہٰذا حسب وعدہ قرآن کریم ضرورتھا کہ اس اُمّت کے خلفاء کا خاتمہ بھی مسیح پرہی ہوتا اورجیسے موسوی شریعت کا ابتداء موسیٰ سے ہوا اور انتہاء مسیح ابن مریم پر۔ ایسا ہی اس اُمّت کے لئے ہو۔ فَطُوْبٰی لِہٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔ اورؔ احادیث میں جو نزول مسیح ابن مریم کا لفظ ہے ہم اس میں بہ بسط تمام لکھ آئے ہیں کہ نزول کے لفظ سے درحقیقت آسمان سے نازل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں آیا ہے تو کیا اس سے یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے ہی اُترے تھے بلکہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہےیعنی دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر ضرورت و بمقتضائے مصلحت و حکمت ہم اُن کواُتارتے ہیں۔ اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہواکہ ہر یک چیز جو دنیا میں پائی جاتی