مورد احسانات حضرت عزّت ہونے کے پوری پوری مماثلت ثابت ہوجائے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب القیامت لوگوں کا نام یہودی رکھا ہے پھر اگراُسی نبی نے ایسے شخص کانام ابن مریم رکھ دیا ہوجو اِن یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہو تو اس میں کونسی تعجب اورقباحت اور استبعاد کی بات ہے۔بلاغت میں یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ ایک فقرہ کے مناسب حال دوسرا فقرہ بیان کرنا پڑتا ہے۔ مثلًا جیسے کوئی کہے کہ تمام دنیا فرعون بن گئی ہے تو اس فقرہ کے مناسب حال یہی ہے کہ اب کوئی موسیٰ اُن کی اصلاح کے لئے آنا چاہیئے لیکن اگر اس طرح کہا جائے کہ تمام دنیا فرعون بن گئی ہے اُن کی اصلاح کے لئے اب عیسیٰ آنا چاہیئے توکیسا بُرا اور بے محل معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ فرعون کے ساتھ موسیٰ کا جوڑ ہے نہ عیسیٰ کا۔ اِسی طرح جب آخری زمانہ کی اُمّت محمدیہ کو یہودی قرار دیا اور یہودی بھی وہؔ یہودی جو شریعت موسوی کے آخری عہد میں تھے جن کے لئے حضرت مسیح بھیجے گئے تھے اور تمام خصلتیں اُن کی بیان کر دی گئیں اور بعینہٖ اُن کو یہودی بنا دیا تو کیا اس کے مقابل پر یہ موزوں نہ تھا کہ جب تم یہودی بن جاؤ گے تو تمہارے لئے عیسیٰ ابن مریم بھیجا جائے گا۔ دجّالیت حقیقت میںیہودیوں کا ہی ورثہ تھا اور اُن سے نصارےٰ کوپہنچا۔ اوردجّال اس گروہ کو کہتے ہیں جو کذّاب ہو۔اور زمین کو نجس کرے اورحق کے ساتھ باطل کو ملا وے۔ سو یہ صفت حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں کمال درجہ پر تھی پھر نصاریٰ نے اُن سے لی۔ سو مسیح ایسی دجّالی صفت کے معدوم کرنے کے لئے آسمانی حربہ لے کر اُترا ہے وہ حربہ دنیا کے کاریگروں نے نہیں بنایا بلکہ وہ آسمانی حربہ ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اگریہ کہا جائے کہ مثیل موسےٰ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو موسیٰ سے افضل ہیں تو پھر مثیل مسیح کیوں ایک اُمّتی آیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مثیل موسیٰ کی شان نبوت ثابت کرنے کے لئے اور خاتم الانبیاء کی عظمت دکھانے