فسادیہودیوں میں واقع ہوگیا تھا اور انواع واقسام کے فرقے اُن میں پیدا ہوگئے تھے اور باہمی ہمدردی اور محبت اور حقوق اخوت سب دُور ہو کر بجائے اس کے تباغض و تحاسد اورکینہ اورعداوت باہمی پید ا ہو گئے تھے اور خدا تعالیٰ کی پرستش اورخوفِ الٰہی بھی اُن کے دلوں میں سے اُٹھ گیا تھا اور جھگڑے اور فساد اور دنیا پرستی کے خیالات اور انواع اقسام کے مکر زاہدوں اور مولویوں اور دنیا داروں میں اپنے اپنے طرز کے موافق پیدا ہوگئے تھے اوراُن کے ہاتھ میں بجائے مذہب کے صرف رسم اور عادت رہ گئی تھی۔اورحقیقی نیکی سے بکلّی بے خبر ہو گئے تھے اور دلوں میں از حد سختی بڑھ گئی تھی۔ایسے زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کو بنیؔ اسرائیل کے نبیوں کا خاتم الانبیاء کر کے بھیجا۔ مسیح ابن مریم تلوار یا نیزہ کے ساتھ نہیں بھیجا گیا تھا اور نہ اس کو جہاد کا حکم تھا بلکہ صرف حجت اور بیان کی تلوار اس کو دی گئی تھی تا یہودیوں کی اندرونی حالت درست کرے اور توریت کے احکام پر دوبارہ اُن کوقائم کر دے۔ ایسا ہی شریعت محمدؐ یہ کے آخری زمانہ میں جو یہ زمانہ ہے اکثر مسلمانوں نے سراسر یہودیوں کا رنگ قبول کر لیا اور اپنے باطن کی رُوسے اُسی طرز کے یہودی ہوگئے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے۔ لہٰذا خدائے تعالیٰ نے تجدید احکام فرقان کریم کے لئے ایک شخص کو بعینہٖ مسیح ابن مریم کے رنگ پر بھیج دیا اور استعارہ کے طور پر اس کا نام بھی مسیح عیسیٰ ابن مریم رکھا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ کا پورانام فرقان کریم میںیہی ہے۔ کماقال اللّٰہ تعالٰی 3333 ۱؂ ۔ سو چونکہ اس بات کا ظاہرکرنا منظور تھا کہ جب آخری زمانہ میں اس اُمّت میں فساد واقع ہو ا تو اِس اُمّت کو بھی ایک مسیح ابن مریم دیا گیا جیسا کہ حضر ت موسیٰ کی اُمّت کو دیا گیا تھا۔ لہٰذاؔ یہ ضروری ہوا کہ اس آنے والے کانام بھی ابن مریم ہی رکھا جائے تا یہ احسان باری تعالیٰ کا ہر یک آنکھ کے سامنے آجائے او ر تا اُمّت موسویہ اوراُمّت محمدیہ میں ازرو