یا مرنے کے بعد پھر زندہ ہو کر آگئے تھے۔ کیا آپ لوگ جب مسجدوں میں بیٹھ کر قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاتے ہیں تو ان آیات کے معنے یہ سمجھا یاکرتے ہیں کہ اِن آیات کے مخاطبین ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت تک بقید حیات تھے یا قبروں سے زندہ ہو کر پھر دنیا میں آگئے تھے۔ اگر کوئی طالب علم آپ سے سوال کرے کہ اِن آیات کے ظاہر مفہوم سے تو یہی معنے نکلتے ہیں کہ مخاطب وہی لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ اوردوسرے نبیوں کے وقت میں موجود تھے کیا اب یہ اعتقاد رکھاجائے کہ وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےؔ وقت میں زندہ تھے یا زندہ ہوکر پھر دنیا میں آگئے تھے۔ تو کیا آپ کا یہی جواب نہیں کہ بھائی وہ تو سب فوت ہوگئے اور اب مجازی طورپر مخاطب اُن کی نسل ہی ہے جو اُن کے کاموں پر راضی ہے گویا انہیں کا وجود ہے یایوں کہو کہ گویا وہی ہیں۔ تواب سمجھ لو کہ یہی مثال ابن مریم کے نزول کی ہے۔سُنّت اللہ اسی طرح پر ہے کہ مراتب وجود دَوری ہیں اور بعض کے ارواح بعض کی صورت مثالی لے کر اس عالم میں آتے ہیں اور روحانیت ان کی بکلّی ایک دوسرے پر منطبق ہوتی ہے۔ آیت 3 ۱ کو غور سے پڑھو اس بات کو خوب غور سے سوچنا چاہیئے کہ ابن مریم کے آنے کی اس اُمّت میں کیا ضرورت تھی اور یہ بات کس حکمت اور سرِّ مخفی پر مبنی ہے کہ ابن مریم کے آنے کی خبر دی گئی داؤد یا موسیٰ یا سلیمان کے آنے کی خبر نہیں دی گئی۔ اس کی کیا حقیقت ہے اور کیا اصل ہے اورکیابھید ہے۔ سو جب ہم عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سطحی خیال کو چھوڑ کر غور کرتے کرتے بحر تدبّر اورتفکّر میں بہت نیچے چلے جاتے ہیں تو اس گہرا غوطہ مارنے سے یہ گوہرِ معرفت ہمارے ہاتھ آتا ہے کہ ؔ اس پیشگوئی کے بیان کرنے سے اصل مطلب یہ ہے کہ تا محمد مصطفےٰ حبیب اللہ اور موسیٰ کلیم اللہ میں جو عند اللہ مماثلت تامہ ہے اور اُن کی اُمّتوں پر جو احسانات حضرت احدیت متشابہ اور متشاکل طور پر واقع ہیں اُن کو بتصریح بپایہ ثبوت پہنچایا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ موسوی شریعت کے آخری زمانہ میں بہت کچھ