بلکہ اس قسم کی بہت سی آیات قرآن شریف میں موجود ہیں کہ جو مر گیا وہ ہرگز پھر دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ اور یہ تو ظاہر ہو چکا کہ حضرت مسیح فی الواقعہ فوت ہوچکے ہیں۔ پھر باوجود اس قرینہ صحیحہ بیّنہ کے اگر حدیثوں میں ابن مریم کے نزول کا ذکر آیا ہے تو کیا یہ عقلمندؔ ی ہے کہ یہ خیال کیاجائے کہ وہی ابن مریم رسول اللہ آسمان سے اُتر آئے گا۔ مثلًادیکھئے کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ سور ۂبقرۃ میں فرماتا ہے کہ اے بنی اسرائیل ہماری اس نعمت کو یادکرو کہ ہم نے آل فرعون سے تمہیں چھڑایا تھا جب وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو رکھ لیتے تھے اور وہ زمانہ یاد کرو جب دریا نے تمہیں راہ دیا تھا اور فرعون اس کے لشکر کے سمیت غرق کیا گیا تھا اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا تھا کہ ہم بغیر دیکھے خداپر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تمہیں بدلی کا سایہ دیا اور تمہارے لئے من وسلویٰ اتارا اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طُور تمہارے سر کے اوپر ہم نے رکھا تھا پھر تم نے سرکشی اختیار کی۔اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم نے خون نہ کرنا اور اپنے عزیزوں کو اُن کے گھروں سے نہ نکالنا اور تم نے اقرار کر لیا تھا کہ ہم اس عہد پر قائم رہیں گے لیکن تم پھر بھی ناحق کا خون کرتے اور اپنے عزیزوں کو ان کے گھروں سے نکالتے رہے۔ تمہاری یہیؔ عادت رہی کہ جب کوئی نبی تمہاری طرف بھیجا گیا تو بعض کو تم نے جھٹلا یا اور بعض کے درپے قتل ہوئے یا قتل ہی کردیا۔
اب فرمائیے کہ اگر یہ کلمات بطور استعارہ نہیں ہیں اور ان تمام آیات کو ظاہر پر حمل کرنا چاہیئے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ جو لوگ درحقیقت ان آیات کے مخاطب ہیں جن کو آل فرعون سے نجات د ی گئی تھی اور جن کودریا نے راہ دیا تھا اورجن پر من وسلویٰ اتارے گئے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک زندہ ہی تھے