ایکؔ پُرانا خیال جو دل میں جما ہوا ہے کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اِسی خیال کو اس طرح پر سمجھ لیا ہے کہ گویا سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم رسول اللہ جن پر انجیل نازل ہوئی تھی کِسی زمانہ میں آسمان سے اُتریں گے حالانکہ یہ ایک بھاری غلطی ہے۔ جو شخص فوت ہوچکا اورجس کا فوت ہونا قرآن کریم کی تیس آیات سے بپایہ ثبوت پہنچ گیا وہ کہاں سے اب زمین پر آجائے گا۔ قرآن شریف کی آیات بیّنا ت محکمات کوکونسی حدیث منسوخ کردے گی۔ 3 ۱ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ مگر یہ قدرت اس کی وعدہ کے مخالف ہے۔ اُس نے صریح اور صاف لفظوں میں فرمادیا ہے کہ جولوگ مر گئے پھر دنیا میں نہیں آیا کرتے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے33 ۲ اور جیسا کہ فرماتا ہے3 ۳ الجزو نمبر ۱۸ یعنی تم مرنے کے بعد قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے اورجیسا کہ فرماتاہے33 ۴ اور جیسا کہ فرماتا ہے وَ 3 ۵ ۔ اوراگر یہ کہو کہ معجزہ کے طور پر مردے زندہ ہوتے ہیں تو اس کا جواؔ ب یہ ہے کہ وہ حقیقی موت نہیں ہوگی بلکہ غشی یا نیند وغیرہ کی قسم سے ہو گی۔ کیونکہ مَاتَ کے معنے لغت میں نَامَ کے بھی ہیں دیکھو قاموس۔ غرض وہ موتٰی جو ایک دم کے لئے زندہ ہوگئے ہوں وہ حقیقی موت سے باہر ہیں۔ اور کوئی اِس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ کبھی حقیقی اور واقعی طور پر کوئی مردہ زندہ ہوگیا اور دنیا میں واپس آیا اور اپنا ترکہ مقسومہ واپس لیا اور پھر دنیا میں رہنے لگا اور خود موت کا لفظ قرآن کریم میں ذوالوجوہ ہے۔ کافر کانام بھی مردہ رکھا ہے۔اور ہوا وہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے اور قریب الموت کا نام بھی میّت ہے۔ اور یہی تینوں وجوہ استعمال حیات میں بھی پائی جاتی ہیں۔ یعنی حیات بھی تین قسم کی ہیں ۔ لیکن آیت 3 بیّنات محکمات میں سے ہے اورنہ صرف ایک آیت