نہیں ٹھہر سکتا کیوں کر مباہلہ جائز ہے۔ قرآن کریم سے ظاہرہے کہ مباہلہ میں دونوں فریق کا اس بات پر یقین چاہیئے کہ فریق مخالف میراکاذب ہے۔ یعنی عمدًا سچائی سے روگرداں ہے مخطی نہیں ہے۔ تا ہر یک فریق *** اللّٰہ علی الکاذبین کہہ سکے۔ اب اگر میاں عبد الحق اپنے قصور فہم کی وجہ سے مجھے کاذب خیال کرتے ہیں لیکن میں انہیں کاذب نہیں کہتا بلکہ مخطی جانتا ہوں اور مخطی مسلمان پر *** جائز نہیں۔ کیابجائے *** اللّٰہ علی الکاذبین یہ کہنا جائز ہے کہ *** اللہ علی المخطئین۔ کوئی مجھے سمجھا وے کہ اگر میں مباہلہ میں فریق مخالفِ حق پر *** کروں توکس طور سے کروں۔ اگر میں *** اللہ علی الکاذبین کہوں تو یہ صحیح نہیں کیونکہ میں اپنے مخالفین کو کاذب تو نہیں سمجھتا بلکہ ماوّل مخطی سمجھتا ہوں جو نصوص کو اُنکے ظاہر سے پھیرکر بلاقیام قرینہ باطن کی طرف لے جاتے ہیں اور کذب اس شے کانام ہے جو عمدًا اپنے بیان میں اس یقین کی مخالفت کیؔ جائے جو دل میں حاصل ہے۔ مثلًا ایک شخص کہتا ہے کہ آج مجھے روزہ ہے اورخوب جانتا ہے کہ ابھی میں روٹی کھا کے آیا ہوں سو یہ شخص کاذب ہے۔ غرض کذب اور چیز ہے اور خطااَور چیز۔ اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ کاذبوں پر *** کرو۔ یہ تو نہیں فرماتا کہ مخطیوں پر *** کرو۔ اگر مخطی سے مباہلہ اورملاعنہ جائز ہوتا تو اسلام کے تمام فرقے جو باہم اختلاف سے بھرے ہوئے ہیں۔ بے شک باہم مباہلہ وملاعنہ کر سکتے تھے اور بلا شبہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلام کا روئے زمین سے خاتمہ ہوجاتا۔ اور مباہلہ میں جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نص قرآن کریم جماعت کو ضروری ٹھہراتی ہے۔ لیکن میاں عبد الحق نے اب تک ظاہر نہیں کیا کہ مشاہیر علماء کی جماعت اس قدر میرے ساتھ ہے جو مباہلہ کے لئے تیار ہے اور نساء ابناء بھی ہیں۔ پھر جب شرائط مباہلہ متحقق نہیں تومباہلہ کیونکرہو۔ اور مباہلہ میں یہ بھی ضرور ی ہوتاہے کہ اوّل ازالہ شبہات کیاجائے بجُز اس صورت کے کہ کاذب قرار دینے میں کوئی تامّل اور شبہ کی جگہ باقی نہ ہو۔ لیکن میاں عبد الحق بحث مباحثہ کاتونام تک بھی نہیں لیتے۔