مظہر الحق والعُلاء کانّ اللّٰہ نزل من السماء۔
یاتی علیک زمان مختلف بازواج مختلفۃ وتریٰ نسلا بعیدا ولنحیینک حیٰوۃً طیّبۃ۔ثمانین حولًا او قریبًا من ذالک۔ انک باعیننا سمیتک المتوکل یحمدک اللّٰہ من عرشہٖ۔ کذّبوا باٰیٰتنا وکانوا بھا یستھزء ون سیکفیکھم اللہ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللّٰہ ان ربک فعال لما یرید۔ یہ عبارت اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۷ ء کی پیشگوئی کی ہے۔
اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے اور جو شخص اپنے تئیں ملہم قرار دے کر مجھے کاذب اور جہنمی خیال کرتا ہے اُس کے لئے فیصلہ کا طریق یہ ہے کہ وہ بھی اپنی نسبت چند ایسے اپنے الہاؔ مات کسی اخبار وغیرہ کے ذریعہ سے شائع کرے جس میں ایسی ہی صاف اور صریح پیشگوئیاں ہوں۔ تب خود لوگ ظہور کے وقت اندازہ کر لیں گے کہ کون شخص مقبول الٰہی ہے اور کون مردودالہٰی۔ ورنہ صرف دعووں سے کچھ ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور خدائے تعالیٰ کی عنایات خاصہ میں سے ایک یہ بھی مجھ پر ہے کہ اُس نے علم حقائق و معارف قرآنی مجھ کو عطا کیا ہے۔ اور ظاہرہے کہ مطہرین کی علامتوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو۔ کیونکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے لَا3 ۱ سوفریق مخالف پر بھی لازم ہے کہ جس قدر مَیں اب تک معارف قرآن کریم اپنی متفرق کتابوں میں بیان کر چکا ہوں۔ اس کے مقابل پر کچھ اپنے معارف کا نمونہ دکھلاویں اورکوئی رسالہ چھاپ کر مشتہر کریں تا لوگ دیکھ لیں کہ جودقائق علم و معرفت اہل اللہ کو ملتے ہیں۔ وہ کہاں تک اُن کو حاصل ہیں مگر بشرطیکہ کتابوں کی نقل نہ ہو۔
ناظرین پر واضح رہے کہ میاں عبد الحق نے مباہلہ کی بھی درخواست کیؔ تھی۔ لیکن اب تک میں نہیں سمجھ سکتاکہ ایسے اختلافی مسائل میں جن کی وجہ سے کوئی فریق کا فر یا ظالم