پھر دوسروں کی کیا مد د کرے گا۔
ماسوا اس کے یہ بھی یاد رہے کہ رحمانی الہامات اپنے بابرکت نشانوں سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ کوئی دعویٰ بغیر دلیل کے قبو ل کرنے کے لائق نہیں ہوتا۔ خداوند علیم وحکیم اس بات کوؔ خوب جانتا ہے کہ اس عاجز نے صرف ایسی صورت میں اپنے الہامات کو منجانب اللہ سمجھاکہ جب صد ہا الہامی پیشگوئیاں روز روشن کی طرح پوری ہو گئیں۔سو جو شخص اس عاجز کے مقابل پر کھڑاہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے الہامات کے منجانب اللہ ہونے کے اثبات میں میری طرح کسی قدر پیشگوئیاں بیان کرے۔ بالخصوص ایسی پیشگوئیاں جو فضل اور احسان باری تعالیٰ پر دلالت کرتی ہوں۔ کیونکہ مقبولین کی شناخت کے لئے ایسی ہی پیشگوئیاں عمدہ دلیل ہیں جو کسی آئندہ عنایات بیّنہ کا وعدہ دیتی ہوں۔ وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ انہیں پر فضل واحسان کرتا ہے جن کو بنظرِعنایت دیکھتا ہے۔
جن پیشگوئیوں کی سچائی پر میری سچائی کا حصر ہے وہ یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تُو مغلوب ہو کر یعنی بظاہر مغلوبوں کی طرح حقیر ہوکر پھر آخر غالب ہوجائے گا اورانجام تیرے لئے ہوگا اور ہم وہ تمام بوجھ تجھ سے اتار لیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تیری توحید تیری عظمت تیری کمالیت پھیلاوے خدا تعالیٰ تیرے چہرہ کو ظاہر کرے گااور تیرے سایہ کو لمبا کردے گا۔ دنیا میں ایک نذیرؔ آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچا ئی ظاہر کر دے گا۔ عنقریب اسے ایک ملک عظیم دیا جائے گا (یعنی اُس کو قبولیت بخشی جائے گی اور خلق کثیر کے دل اس کی طرف مائل کئے جائیں گے) اور خزائن اُس پر کھولے جائیں گے (یعنی خزائن معارف و حقائق کھولے جائیں گے کیونکہ آسمانی مال جو خدائے تعالیٰ کے خاص بندوں کو ملتا ہے جس کو وہ دنیا میں تقسیم کرتے ہیں۔دنیا کا درہم و دینار نہیں بلکہ حکمت و معرفت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کرکے